نکے ہوندیاں کے اولین پیاروں میں ایک پیار میراڈونا بھی تھا۔ انیس صد نوے کے فٹ بال ورلڈ کپ کی ارجنٹینا جس کو تاریخ کی ناپنسیدہ ترین ٹیمیوں میں سے ایک کہا جاتا ہے ہماری پسندیدہ تھی اور وجہ تھی میراڈونا- جب فائنل میں ایک غلط پنلٹی پر جرمنی نے ورلڈ کپ اٹھایا تو میراڈونا کے آنسوؤں کی محبت میں اگلے دس بارہ سال میں نکمی لولی لنگڑی ارجنٹینا کی محبت میں گرفتار رہے-
لوگوں کے زایچے میں یوگ ہوتا ہے اور ہم انٹی کیپٹلزم کے روگ سے ساتھ پیدا ہوئے اور بطور فین آج بھی چورانوے میں میراڈونا پر پابندی کو فیفا کی سازش ہی گردانتے ہیں- پھر انٹری ہوئی زیڈان کی اور ہم فرانس کی گود میں جا بیٹھے اور آخر کار فائنل میں ذیڈان سے بکرے والے ٹکر لگوا ورلڈکپ سے فارغ کرا کر دم لیا۔ اب کے ہماری محبت کا حقدار بنا کورشئیا کا لوکا موڈرچ۔ بس بیچ میں وہ فرانس کی مضبوط ٹیم نہ آگئ ہوتی تو ہم نے ورلڈ کپ جیت جانا تھا پر اللہ ہوچھے پوگبا سے جو اپنے بے اتنہا ٹیلنٹ کے باوجود صرف دو بندوں کو ہرا سکا ایک موڈرچ کا فائنل دوسرا میرے پسندیدہ کوچ مریہنیو کا مانچسٹر یونائیٹڈ کا کیرئر۔
لیکن میسی کے کھیل کا قائل ہونے کے باوجود کبھی اسکا طرفدار نہیں رہا – شاید اس میں کچھ کردار اس کا بارسلونا کا وفاردار ہونا ہے اور ہم ٹھہرے ریال میڈرڈ کے فین۔ دوسرا پرتگال کی محبت اور وہاں دوران رہائش کی یادوں کی وجہ سے شاید رونالڈو سے معمولی ہمدردی- میسی جب جرمنی سے ہی 2014 کے فائنل میں ہارا تو ارجنٹینا کی تاریخ میں اس کا حقیقی مقام وہی تھا۔ بھلے ٹیلنٹ کے حساب سے وہ میراڈونا سے بہتر کھلاڑی ہو لیکن میراڈونا تو ارجنٹینا کا ہیرو تھا، تمام نوآبادیت کے شکار ممالک کا ہیرو تھا، تیسری دنیا کا ہیرو تھا لیکن میسی تو فیفا کا فیورٹ تھا- اس کا اور ایک انقلابی کا کیا مقابلہ۔ لیکن پہلے قطر اور پھر اس بار دانستہ یا غیر دانستہ کوششیں کی گئیں وہ الٹا ایسے لوگ جو میسی کے کھیل کے قائل تھے کے لیے بددلی کا باعث بن گئی۔
اس بار فائنل میں ایک تو اننٹٰ میسی مہم زور پکڑ چکی تھی حالانکہ اسپین بذات خود ایک تھکڑ سی ٹیم ہے جو فقط گیند کنٹرول کے زریعے کھیل رہی تھی اور اگر اسکو کوئی اچھا مخالف کوچ مل جاتا تو اس کی ہیکڑی نکل جاتی تھی لیکن میسی کی مخالفت میں اس کے حمائیتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ میرے جیسے لوگوں کو اپنے خبیب بھائی (خبیب نور محمدوچ – مشہور ایم ایم اے فائیٹر- Khabib Abdulmanapovich Nurmagomedov) کے سوشل میڈیا پیغام نے راہ دکھا دی کہ ایک ملک اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے اور دوسرا آج کل فلسطین کے ساتھ ٹھہرا ہے تو آپ جانتے ہوں گے کہ میں کس کے ساتھ ہوں۔
فائنل میں قدرت کا نظام حرکت میں آیا اور اصلی ارجنٹینا لوگوں نے دیکھ لی جو تمام وقت میں ایک بھی شاٹ گول پر نہیں مار سکی۔ نوے کی ارجنٹینا اس لیے ہدف تنقید بنتی ہے کہ اکثر کھلاڑی اپنا عروج گزار چکے تھے تو وہ آتے ساتھ ہی ڈیفنس پر زور دیتے گویا کھیل ہی اس لیے رہے ہیں کہ میچ پنلٹیوں پر چلا جائے اور فائنل میں پنلٹی –بھلے غلط ہی سہی- نے ان سمیت لاکھوں شائقین کے دل توڑ دیے- کچھ لوگ اس کو بھی قدرت کا نظام کہتے ہیں لیکن یار وہ تو میرا ڈونا تھا ، باغی تھا، جنگجو تھا اور جنگ میں تو سب جائز ہوتا ہے- ہیں ناں؟؟؟؟


