Monday, May 21, 2012

ہنستا چہرہ (smiling face)


پیش تحریر:
تین سالوں میں پچاسویں تحریر لکھ کر میں نے کوئی احسان نہیں کیاہاں آپ نے یہ پچاس بکواسیات پڑھ کر مجھ پر ضرور احسان کیا ہے اور میری انا اور میرے میرے اپنے بارے میں قائم کیے گئے نظریے "نظر انداز کیے جانے والے عظیم مزاح نگار" کو ضرور تقویت ضرور پہنچائی ہے۔بس تبصرے کرنے جاری رکھیے آپکی مہربانی ہوگی

میرے خیال میں تو یہ پچاسیویں پوسٹ بس خانہ پری ہے لیکن مجھے جو اپنی تحریر پسند آتی ہے آپکو واجبی سی لگتی ہے اور میں جسکو خانہ پری سمجھتا ہوں آپ کو وہ اچھی لگتی ہے ۔

آگے آپکی قسمت

Friday, May 11, 2012

بال بال

بال بال

جب ہم چھوٹے تھے تو باقاعدگی سے ایک نائی ہمارے گھر آیا کرتا تھا جو والد صاحب کی حجامت اورداڑھی کا خط بنایا کرتا تھا اور مہینے میں ایک بار ہمیں بھی اس کے سامنے سر جھکا کر بیٹھنا پڑتا تھا۔اللہ بخشے مرحوم ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ایک تو اسے ہر نئے بالوں کے انداز style  سے چڑ تھی دوسرا اسے پتہ تھا کہ میں اہلحدیث مکتبہ فکر کے مدرسے میں پڑھنے جاتا ہوں لہذا وہ بال پیچھے سے گول، قلمیں بغیر استرا لگائے اور درمیان سے مانگ نکال کر اپنی طرف سے والد صاحب کے سامنے نمبر بنانے کی کوشش کرتا تھا اور تیسراگردن پر کند استرے لگا کر ہمیں اگلا سارا ہفتہ آئیندہ حجامت کروانے سے توبہ ضرور کرادیا کرتا تھا۔

Tuesday, May 1, 2012

ملتان سے لاہور


ملتان سے لاہور

ملتان سے لاہور جانا ہو تو ہر وہ راستہ جو شہر سے باہر جاتا ہے گھوم پھر کر لاہور کو ہی جاتا ہے۔ لاہور روڈ تو ویسے ہی لاہور جاتا ہے پر بہاولپور ،مظفر گڑھ یا بند بوسن والے رستوں پر جائیں تو لاہور پہنچنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی۔شاید کوپر نیکس کو بھی لاہور 
جانا پڑا تھا جس پر اس نے دریافت کیا تھا کہ دنیا گول ہے ۔

Saturday, April 21, 2012

تین چیزیں جو اپنی لگنی چاہییں


تین چیزیں جو اپنی لگنی چاہییں

جب چھوٹے تھے تو سنا تھا کہ گاڑی اور بیوی ایسی ہونی چاہییں کہ آپ کے ساتھ ہوں تو آپ کی ہی لگیں۔ وقت کے ساتھ اس محاورے میں تھوڑی تبدیلی آ گئی ہے اور اب تین چیزیں اس فہرست میں آ گئی ہیں کہ لڑکی، گاڑی اور ڈگری آپ کی ایسی ہونی چاہیے کہ آپ کے ساتھ ہوں تو آپ کی ہی لگیں۔

Wednesday, April 11, 2012

تم سے تھے جتنے استعارے تھے


تم سے تھے جتنے استعارے تھے

لیں جی کلاس نہ ہوئی مذاق ہو گی۔ہمارے پروفیسر صاحب جنکو ہم انکی عمر کی مناسبت سے بابا جی کہتے ہیں۔ ہمیں مجیمنٹ تھیوری پڑھاتے ہیں۔کہنے لگے کچھ سال قبل ایک گورے نے پخ ماری تھی کہ آرگنائزیشن کو استعارے کے طور پر دیکھو اور اس نے آٹھ راہنما استعارے مقرر کیے تھے۔
اب ہمارے شعری جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی کہ ہم تو صرف رنگ و خوشبو اور 
حسن و خوبی کے استعاروں سے واقف تھے 

Popular Posts

Followers

Network blog @ facebook