October 24, 2019

ایران مشاہدات وتاثرات



 علامہ اقبال فرماتے ہیں

 اگرچه زادهٔ هندم فروغِ چشمِ من است
 ز خاکِ پاکِ بخارا و کابل و تبریز 

 یعنی کہ اگرچہ میں ہند میں پیدا ہوا ہوں، لیکن میری آنکھوں کی چمک بخارا، کابل اور تبریز کی پاک خاک کے سرمے سے ہے- تو چونکہ میرا سلسلہ نصب بھی بخارا، تبریز سے جا ملتا ہے اس لیےسفر ایران میں ایسا ہی محسوس ہوا جیسے گرمیوں کی چھٹیوں پر کسی رشتہ دار کے گھر جایا کرتے تھے- اپنے ہی بچھڑے بھائیوں دوستوں سے ملکر کیا محسوس ہوا اب بھی پڑھییے- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

October 5, 2019

اگر تبریز نہ باشد- اختتام



اگلا روز یعنی تیسرا روز سمر اسکول کا آخری روز تھا۔ ناشتا میں نے حسب معمول سو کر گزارا اور جب نیچے ہال میں پہنچا تو پتہ چلا کہ آخری روز کا پروگرام یہاں نہیں بلکہ تبریز کے ساتھ ایک انڈیسٹریل پارک یا فری زون / free zone/ Industrial park میں ہو گا کہ انہوں نے اس پروگرام کو سپانسر بھی کیا تھا- بسوں ویگنوں میں بیٹھ گئے (بسوں میں طلبہ اور ویگنوں میں مقررین)- وہ صنعتی پارک تبریز سے ڈیڑھ دو گھنٹے کی مسافت پر تھا- وہاں پہنچتے پہنچتے راستے میں کھانے کا وقت ہو گیا تو راستے میں کھانے کا انتظام بھی کیا ہوا تھا- کھانا کھایا اور پھر چل پڑے- 

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

September 18, 2019

اگر تبریز نہ باشد - 2



اگلے روز اٹھے ، وقت دیکھا تو ناشتہ کھایا جا چکا تھا – تیار ہوا اور لیکچر دینے کانفرنس ہال میں پہنچ گیا جو اسی ہوٹل کی نچلی منزل پر تھا۔ جب وہاں پہنچا تو میری مترجم صاحبہ غائب تھیں میں نے شکر ادا کیا کہ اس معاملے میں مدعی ہی چست رہا ہے۔ مترجم صاحبہ کو یاد کرنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ میں لیکچر دینے کو بے قرار ہوا تھا بلکہ میرا لیپ ٹاپ ان کے پاس تھا اور مجھے اسکی فکر کھائے جارہی تھی- ان فروعی مسائل سے نکل کر پروگرام شروع ہوا- اب چونکہ میرا پہلا لیکچر تھا تو اس سے پہلے تلاوت، قومی ترانہ، تعارف وغیرہ ہوئے اور پھر مائیک میرے حوالے کر دیا گیا- میں نے شروع کیا کہ "سب سے پہلے تو آپ لوگوں کا شکریہ کہ آپ نے دعوت دی، خرچ اٹھایا اور سننے کو چلے (خرچ والی بات ظاہر ہے دل میں کہی)، دوسرے نمبر پر پیارے بچو اگر تو آپکو لگا اچھا اور آگئی سمجھ تو میری علمیت کی داد دیجیے گا اگر سمجھ نہ آئی تو پھر مترجم بی بی کو مورد الزام ٹھرائیے گا کہ اب آپ تک بات ہی صیح نہیں پہنچی تو میرا کیا قصور؟" 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

August 6, 2019

اگر تبریز نہ باشد- 1

پیش سفر، روز اول، سیر تہران




قسمت میں ایسے ہی لکھا تھا کہ میں نے بابا کے نہ چاہنے کے باوجود اپنے ماہانہ خرچ سے پیسے بچا کر پی ایچ ڈی کے ڈیفنس سے تین ماہ قبل لیتھوانیا Lithuania ایک تعلیمی کانفر س میں جانا تھا، کانفرنس کا خاص اسپورٹس سے متعلق ہونے کے باوجود اسکو فصول پانا تھا. وہاں ایک ترک ڈاکٹر (ڈاکٹر مجاہد فشنے) سے ملنا تھا اس کے بعد اگلے دو سال ایک دو مواقع پر اس ترک پروفیسر کے طلبا کی ریسرچ میں مدد کر نا تھا (حالانکہ میں اور دوسروں کی مدد..............) اور اس ترک ڈاکٹر کی وساطت سے ایک ایرانی ڈاکٹر سے ایک ریسرچ پراجیکٹ سے منسلک ہونا تھا اور اختتام کار تبریز میں ( ایک بار پھر بابا کے نہ چاہنے کے باوجود) دانشگاہ تبریز یعنی تبریز یونیورسٹی کے سمر اسکول Summer school میں شرکت کرنا تھی. اب قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 19, 2019

اسد عمر کی تبدیلی اور پاکستانی معیشت



سوچ رہا ہوں کہ ایک راہمنا کتابچہ لکھوں جو ایسے غیر ملکی پاکستانیوں کی مدد کرے جو پاکستان مستقل سکونت کا سوچ رہے ہیں تو اسی میں ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ عاجزی (یعنی ہمبلنس) کو وہاں ہی چھوڑ کر آئیں کہ جب تک یہاں آپ ڈھونڈورا نہیں پیٹیں گے کہ میں ایسا میں ویسہ میں دھیلہ میں پیسا تب تک کسی نے آپ کو گھاس نہیں ڈالنی تو اسی نقطے کے تحت میں بتاتا چلوں کہ میں نے ماسٹرز میں اکنامس یا معاشیات پولینڈ سے پڑھی تھی جہاں پڑھانے والے اکثر سوشلسٹ یا بائیں بازو کے نظریات کے حامل تھے جبکہ ڈاکٹریٹ میں معاشیات اسٹونیا میں پڑھی تھی جہاں اساتذہ کٹر فری اکانومسٹ یا سرمایہ درانہ نظام کے حامی تھی اس لحاظ سے مجھے دونوں نقطہ نظر کو پڑھنے اور جاننے کا موقع ملا- - 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

January 20, 2019

پنجاب پولیس - سانحہ ساہیوال



احمد رضا قصوری اپنی کتاب "ادھر ہم ادھر تم" جو اسی کی دہائی میں شائع ہوئی تھی میں لکھتے ہیں کہ پنجاب پولیس ایسی ہے کہ اگر اس کو کہا جائے کہ اپنے والد کو گرفتار کرو تو یہ ہتھکڑی لیے والد کے پاس پہنچ جائیں گے کہ "ابا جی گرفتاری دے دیو تہاڈے پتر دی ترقی ہو جائے گی"۔ اگر اس زمانے میں جو پاکستان کا نسبتاً اچھا دور تھا یہ حال تھا تو سوچیں بعد میں کیا کچھ نہ ہوا ہوگا- اس تنزلی کو پڑھنا ہو تو سابق آئی جی پنجاب سردار محمد چوہدری کی الٹی میٹ کرائم Ultimate crime (جہان حیرت : اردو ترجمہ) پڑھ لیں کہ وہ کیسے فخر سے نواز شریف حکومت بچانے اور برقرار رکھنے میں مدگار رہنے کی کہانیاں بیان کر رہے ہیں- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

September 7, 2018

طلب چا


لڑکا دراز قامت ہو، صاف رنگت رکھتا ہو، سیگرٹ کا کش لگاتا ہو،سلنسر نکال کر بائیک اڑاتا ہو، رنگین کار کا مالک ہو، میٹھی باتیں کرتا ہو اور سیاہ کافی پینے کا شغف رکھتا ہو تو ایسے لڑکے جنس مخالف میں خاصی مقبولیت حاصل کر لیتےہیں- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

June 16, 2018

میرے شہر


میں نے زندگی میں اچھی خاصی آوارہ گردی کی ہے اور کئی شہروں میں طویل قیام کیا ہے- ذیل میں ان شہروں اور ان کے بارے میری رائے ہے- بات کسی حد تک عقلیت سے آگے نکلی ہوئی ہے لیکن وہ تعلق ہی کیا جو عقلی بنیادوں پر قائم ہو- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 5, 2018

"ماں بولی"



میں بس اسٹاپ پر پہنچ کر ابھی دم نہ لینے پایا تھا کہ کسی نے دونوں ہاتھوں سے میرا داہنا بازو تھام لیا۔ 

میں نے خود کو پر سکون رکھتے ہوئے اپنی داہنی طرف دیکھا۔ ایک بوڑھی روسی سفید فارم خاتون تھی جن کو روسی زبان میں ببوشکا اور ہمارے ہاں اماں پکارا جاتا ہے۔ اس کا چہرہ دیگر بوڑھی روسی خواتین کی طرح کی طرح عمر بھر کی تنہائی کا غماز تھا۔ خواہشات کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے اس کے چہرے پر جھریاں لٹک آئی تھیں۔ اس کی عمر کم از کم اسی سال رہی ہو گی۔ اس کا جسم تھوڑا چوڑا تھا لیکن ابھی تک وہ اس قابل تھی کہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی تھی- اس روسی اماں نے سرخ رنگ کا اوور کوٹ پہنا تھا جس کی اجڑی ہوئی روئیں کوٹ کے پرانے ہونے کی چغلی کھا رہا تھا۔ کوٹ کا نچلے چند بٹن ٹوٹے ہوا تھا یا اماں بند کرنا بھول گئی تھی۔ اماں کا چہرہ جھریوں سے بھرا تھا۔ وہ کب کی اس عمر میں پہنچ چکی تھی جہاں خواتین کسی بھی قسم کی دِکھنے کی پریشانی سے آزاد ہو چکی ہوتی ہیں۔ اس خاتون کے ہونٹوں پر ہلکے سرخ رنگ کے بال تھے جو اگر غور سے دیکھے جاتے تو اچھی خاصی مونچھیں بن چکے تھے۔ مجھے اس کو دیکھ کر اپنے گاؤں کی بوڑھی خواتین یاد آ گئیں۔ اماں ثرو، اماں سکھی، اماں روزی، جو ہمارے گھر میں کام کیا کرتی تھیں- جب تک میں طبقاتی فرق نہ جانا تھا تب تک ان کے جھریوں بھرے چہرے سے بڑی محبت جھلکا کرتی تھی۔ 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

January 20, 2018

انگریزی لفظ برڈر کی اردو



اب اللہ جانے پیدائشی خلل تھا یا بعد میں کس حادثے کا نتیجہ ہے کہ اردو سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے- یہ محبت جب کمپیوٹر استعمال کرنا شروع کیا تو مزید ابھر کر سامنے آئی- جس روز پہلی بار نویں جماعت میں کمپیوٹر کو چھوا اسی لمحے پہلا خیال یہی آیا کہ اس پر اردو میں کام کیسے کیا جا سکتا ہے- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad