August 2, 2026

برڈنگ سے استعفیً و سفر پر ایک نظر وغیرہ وغیرہ




سنہ 2013 میں ایسٹونیا میں ایک سیل لگی جس میں 300 ایم ایم کیمرہ لینز فقط نوے یورو میں مل رہا تھا- ڈی ایس ایل آر
 پہلے ہی  تھا تو ہم خوشی خوشی یہ بز "بکری" خرید کر لے آئے- اب بندوق لیں تو چلانی بھی پڑتی ہے تو لینز لیکر فوٹوگرافی شروع ک تو پتہ چلا تین سو ایم ایم ذرا دو کی تصویر کشی مانگتا ہے- اسی کشمکش میں چڑیا گھر گئے جہاں اس کا اچھا استعمال شروع ہوا کہ ساٹھ یا سو ایم ایم کھلے پنجروں میں جانوروں پرندوں کو قریبی تصویر لینے میں ناکام تھا۔ بس پھر کیا تھا ایک دھن سوار ہوئی اور یورپ کے تمام چڑیا گھر ، مچھلی گھر، سفاری پارک چھان مارے۔ لیکن کسی سیانے نے رنگ میں  بھنگ ڈالتے ہوئے کہا کہ بھائی اگر کرنا ہی ہے تو اصل ماحول میں برڈنگ یا پرندوں کی تصویر کشی کریں –
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 30, 2023

میں نے بلاگ لکھنا کیوں چھوڑدیا


 

سنہ 2016 تک میں باقاعدگی سے بلاگنگ کرتا  رہا۔ اور بلاگنگ بھی ایسی کہ نان فکشن کو تو ہم دل سے بلاگر ہی نہیں مانتے تھے- ایسی دھواں دار بلاگنگ کی کہ ہر ہفتے ایک یا دو بلاگ پوسٹ کردیتے اور دس پندرہ  تحاریر قطار میں پڑی انتظار کرتی رہتیں۔ بیسٹ بلاگر کا ایوارڈ ملا- افسانوں کی کتاب شایع ہوئی- اور پتہ نہیں  کیا کیا اپنی طرف سے کارنامے سرانجام دیے بھلے پڑھنے والے سو دو سو ہی لوگ تھے لیکن ہم زمانے کی پرواہ کرنے والے ہوتے تو آج سدھر نہ چکے ہوتے۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

September 7, 2018

طلب چا


لڑکا دراز قامت ہو، صاف رنگت رکھتا ہو، سیگرٹ کا کش لگاتا ہو،سلنسر نکال کر بائیک اڑاتا ہو، رنگین کار کا مالک ہو، میٹھی باتیں کرتا ہو اور سیاہ کافی پینے کا شغف رکھتا ہو تو ایسے لڑکے جنس مخالف میں خاصی مقبولیت حاصل کر لیتےہیں- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

June 16, 2018

میرے شہر


میں نے زندگی میں اچھی خاصی آوارہ گردی کی ہے اور کئی شہروں میں طویل قیام کیا ہے- ذیل میں ان شہروں اور ان کے بارے میری رائے ہے- بات کسی حد تک عقلیت سے آگے نکلی ہوئی ہے لیکن وہ تعلق ہی کیا جو عقلی بنیادوں پر قائم ہو- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

March 17, 2017

میرا آڈیو ڈرامہ اور اے دل ہے مشکل فلم میں شاعری


جب میں ماس کمیونیکشن میں ماسٹرز کر رہا تھا تو تب میں نے اور میرے چند دوستوں نے ملکر ایک آڈیو ڈرامہ بنایا تھا جس کو تحریر میں نے کیا تھا- بعد میں ہم نے تین چار کلاسوں میں ڈرامے کو پیش کیا اور اس پر لوگوں کے تاثرات و تنقید سنی اور حتی المقدور جواب دینے کی کوشش کی- اب تنقید تو ایسے ہی تھے کہ آپ کچھ پڑھے بغیر کسی کتاب پر تبصرہ سن کر اس پر تنقید کرنا چالو ہو جائیں کہ آدھے سے زیادہ لوگوں نے کبھی زندگی میں آڈیو یا صوتی ڈرامہ سنا ہی نہیں تھا کجا اس کی تکنیکی خامیاں پکڑنا لیکن آفرین ہے کہ نوے فیصد لوگوں نے کھل کر تنقید کی –

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

October 1, 2016

ایک انٹرویو جو نوکری نہ ہونے کے لیے دیا گیا


ایک بار پہلے بھی مجھے پاکستان سے محبت کا مروڑ اٹھا اور میں نے سوچا کہ میرا فرض بنتا ہے کہ قوم کی خدمت کی جائے اور جو پڑھا لکھا ہے وہ ملک کو لوٹایا جائے اور تب کی بات یاد کر کے نئے مروڑ کو دبانے کی کوشش کرتا ہوں۔ 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

August 1, 2016

موسیقی- بیتی



ہم نے اسی (80) کی دہائی میں ہوش سنبھالا تھا اور اس زمانے میں اکثر گھروں کی طرح ہمارے گھر میں بھی میوزک یعنی موسیقی کو میراث پوںڑاں (میراثی پن) ہی سمجھا جاتا تھا۔ ایسا بھی نہیں کہ ہم کوئی کٹر مذہبی گھر میں پیدا ہوئے۔ ہمارے والد خود بعض اوقات ہمیں فلمیں دکھایا کرتے تھے جیسے محمد علی کی آگ کا دریا یا ہندی سنگم- ویسے تو گھر میں ٹیپ ریکارڈر بھی تھا وی سی آر بھی لیکن بے مقصد یا محض ٹائم پاس کے لیے گانے سننا ایک بری بات سمجھی جاتی تھی۔بس شادی بیاہ کے موقع پر اس یار کا بے نقاب دیدار ہوا کرتا تھا۔ 

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

July 1, 2016

استنبول ہوائی اڈے پر دہشت گردی کا آنکھوں دیکھا حال


دوسری دفعہ کا ذکر ہے (ویسے تو پہلی دفعہ کا ذکر بھی قابل ذکر ہے لیکن وہ پھر کبھی سہی) کہ ترکش ائیرلائن کے تمام
  تر برے تجربات کے باوجود میں بذریعہ استبول ترکش ائیر لائن سے سفر کررہا ہے- جب پرواز تالِن – استنبول- کراچی تھی اور استنبول میں دو گھنٹے کا انتظار تھا- جب تالن ہوائی اڈے پہنچا تو پتہ چلا کہ پرواز پندہ منٹ تاخیر سے روانہ ہوگی- وہ پندرہ منٹ بڑھ کر پورا گھنٹہ بن گئے لیکن ایسی چھوٹی موٹی تاخیر ہو ہی جاتی ہیں اور بس مجھے اب یہ کرنا تھا کہ استنبول ہوائی اڈے پر اترتے ہی کراچی والے گیٹ کی طرف دوڑ لگانی تھی

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

March 19, 2016

ہم جیسے کہاں تم کو 'سلیقہ شعار' ملیں گے


کیا آپ نے کبھی سنا ہے کسی نے ناخن تراش سے ناخن کاٹتے وقت اپنی انگلیاں زخمی کر بیٹھا ہو؟ اگر نہیں تو آج ہی مجھ سے مل کر پرانے زمانے کی سگھڑ خواتین کی یاد تازہ کریں اور اگر مل چکے ہیں تو جگر تھام کر بیٹھیے اور ہماری داستان سنیں کہ ایسی داستان نہ ہو گی داستانوں میں (اس مصرع کو تنبیہ کی بجائے ترجیع کے معنوں میں پڑھا جاوے)۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

March 5, 2016

درشن چھوٹے نام بہت


جب میں نے پہلی بار 'شہاب نامہ' پڑھی تھی تو میں اتنا چھوٹا تھا کہ سمجھ بوجھ کے بغیر بس اردو پڑھ لیتا تھا۔ کتاب کے ٹائیٹل صفحے پر قدرت اللہ شہاب کی باریش تصویر اور آخری باب میں وظیفے دیکھ کر جب کتاب کے درمیان میں ان کی جوانی کی بے ریش اور پتلون کوٹ والی تصویر دیکھی تو دل کو دھچکا سا لگا کہ ایک سیدھے سادے دین دار گھرانے میں اس وقت پتلون صرف خاص مواقع پر پہنی جاتی تھی۔ میں رہ نہ سکا اور والدہ سے پوچھ بیٹھا کہ شہاب صاحب پینٹ بھی پہنا کرتے تھے۔؟

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

October 11, 2015

خوف زدہ اور شوق زدہ


روایت ہے کہ ایک بار دو اشخاص میں شرط بد گئی- شرط یہ لگی کہ اگر ایک شخص قبرستان میں رات کو جا کر گوشت کی دیگ پکائے تو اس کو انعام میں دوسرا شخص سو اونٹ دے گا۔ ایسی نامعقول شرط سے ہی آپ شرط کے حرام کیے جانے کی وجہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ کہتے ہیں اگر اونٹ پالو تو دروازے اونچے کرنے پڑتے ہیں اور خود اندازہ لگا لیں سو اونٹ پالنے کے بعد دروازے بلند کرتے کرتے ایفل ٹاور نما کچھ چیز رہ جائیں گے دروازے نہیں رہیں گے- اب اتنے بڑے صرف معدے ہو سکتے ہیں دروازے نہیں- دوسرا یہ بھی ہے کہ ایسی شرط لگا کر کوئی اپنا پرانا بدلہ اتارے تو الگ بات وگرنہ اس میں تو فائدہ تو سنانے والوں کا اور سننے والوں کا ہے-
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

October 1, 2015

ایک آخری تقریر


یہ جو میں نان اسٹاپ اناپ شناپ بولتا رہتا ہوں تو مجھے ایک لطیفہ یاد آجاتا ہے کہ کسی نے کہا "فلاں شخص بولتا بہت زیادہ ہے" تو جواب ملا "اس کا والد کمینٹیٹر، چاچا مقرر اور والدہ ایک عورت ہیں"۔ تو گرچہ میرے والد صاحب اور چچا ایسے کسی شعبے سے منسلک نہ سہی میری والدہ ایک عورت تو بہرحال ہیں ہی ہیں اور میں خود بھی ماشا اللہ سے مقرر رہا ہوں ۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

September 21, 2015

تین دعوتیں تین کہانیاں



غالباً میں چار، پانچ سال کا رہا ہوں گا جب ایک دن عید نماز سے واپسی پر یا شاید جمعہ نماز سے واپسی پر چچا اپنے کسی دوست کے گھر لے گئے- چونکہ احمد پور شرقیہ ایک چھوٹا سا شہر تھا جہاں ہمارا خاندان خاصا نیک نام تھا اور اس زمانے میں شرافت اور اخلاق کی عزت کی جاتی تھی تو جہاں جاتا تھا وہاں 'خالد شاہ کا نکا' یعنی خالد شاہ کا بیٹا ہونے کے ناطے خاصی آؤ بھگت ہوتی- وہاں بھی آؤ بھگت ہوئی اور اسی سلسلے میں وہ اعزاز جو اپنے اتنہائی قریبیوں کو بخشا جاتا تھا ہمیں بھی بخشا گیا اور زنان خانے کا بھی دورہ کروایا گیا جہاں دو جوان خواتین بیٹھی آٹا ہاتھوں میں مل مل کر سویاں بنا رہی تھیں۔ انہوں نے سردائی کی پیشکش کی جو میں نے شرم کے مارے انکار کر دی- اب یاد نہیں شرم ان خواتین سے آ رہی تھی کہ اس زمانے اور اس سے کئی آنے والے زمانوں تک خواتین دیکھ کر یار لوگ جسے رال ٹپکنا سمجھتے رہے دراصل پتہ تھا جو پانی ہو کر منہ کے راستے باہر نکل رہا ہوتا تھا، یا ان کے ہاتھوں پر مسلنے والے آٹے کی میل سے گھبرا رہا تھا حالانکہ صفائی کے معاملے میں ایسا رہا ہوں کہ اکثر چیونگم منہ سے نکال کر جیب میں رکھ لیتا تھا کہ جب بڑے ادھر ادھر ہوں گے پھر سےچبانا شروع کر دوں گا یا اپنے ایمان پر بھروسا نہ تھا کہ کھانے پینے کے معاملے میں ہم بچپن سے منہ چھوڑ واقع ہوئے ہیں کہ بچپن میں اکثر زیادہ کھانے سے ہیضہ کا شکار رہتا تھا- آخر کار جب ان کا اصرار بڑھا تو انہوں نے حدیث نبوی کا سہارا لیا کہ کسی کی دعوت نہیں ٹھکرانی چاہیے تو میں نے مجبور ہو کر تین چار گلاس پی ہی لیے۔ لیکن یہ بات اس دعوت کے متعلق نہیں بلکہ اس کے بعد ہمارے اس اصول کے تحت ہونے والی تین دعوتوں کے ہیں کہ دعوت کبھی نہیں ٹھکرانی چاہیے-

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

July 21, 2015

کوکا پیپسی سیون اپ- لوازمات گپ شپ



ہم اس زمانے میں پیدا ہوئے جب کوکا کولا ، پیپسی و دیگر ہلکے مشروبات (سافٹ ڈرنکس) تعیشات میں شمار ہوتے تھے اور
خال خال مہمان کی ہی اس مشروب سے تواضح کی جاتی تھی لیکن اس زمانے میں پیدا ہونے کے باوجود میں کوکا کولا اور پیسپی کا آج کے بچوں کی طرح ہی شوقین تھا بلکہ میرے خیال میں اکثر بچے تب بھی اور اب بھی اس کے شوقین رہے ہیں - میری خواہش ہوتی تھی کہ اللہ کرے قابل تواضع پیپسی /کوک مہمان روز روز آئیں اس لیے نہیں کہ میں بچپن سے ہی مہمان نواز واقع ہوا ہوں یا مہمانوں کی بوتل کے ساتھ ہم بچوں کی بھی بوتل آتی تھی بلکہ اس لیے کہ اس زمانے میں اکثر لوگ بوتل میں ایک آخری گھونٹ چھوڑ دیا کرتے تھے جو کہ ہماری اشتہا کا پیٹ بھرنے کا کام دیا کرتی تھی اور مہمان اللہ کی رحمت کیوں ہیں سمجھنے کا موقع فراہم کرتی تھی۔ لیکن اللہ کی رحمت کا دورانیہ جب طویل ہو جاتا تو ہمیں بے چینی ہوجاتی اور اندر جا کر بار بار مہمانوں کو میزبانی کی پیشکش کرتے ہوئے برتن اٹھانے کی پیشکش کرتے جس کا بنیادی مقصد شیشے کی وہ بوتل ہوتی جس میں ہماری زبان کے چٹخارے کی جان بسی تھی۔ لیکن یہ پیشکش صرف والدہ کے مہمانوں کے لیے ہوا کرتی تھی کہ والد صاحب کی تنبیہ محض گھورنے تک یا کھنگارنے تک محدود نہ ہوا کری تھی بلکہ وہ شرع میں کیسی شرم کے قائل تھے اور مہمانوں کے سامنے ہی ہمیں مہمان کی عظمت کا سبق پڑھا دیا کرتے تھے۔ اگر مہمان بھی ہم جیسے ہی ترسے ہوئے ثابت ہوتے جو ایک آخری قطرہ تک نچوڑ کر بوتل کی جان چھوڑا کرتے تھے اور نام اس کو فضول خرچی سے اجتناب کا دیا کرتے تھے تو ہم بھی اپنے لیمبوں نچوڑ اور اسحاق ڈاری طبعیت کو ضرورت ایجاد کی ماں کا نام دے کر خالی بوتل میں ٹھنڈا پانی بھر کر پی لیا کرتے تھے جس میں سے خوشبو کوک کی اور ذائقہ ایسا آتا جیسے کہ اس شخص کو آیا ہو گا جس نے بھاگتے چور کی لنگوٹی ہتھیا لی ہو گی۔ تاہم کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ کوئی مہمان ہمارے چہرے پر برستی معصومیت اور پیاس جو کہ سیلاب زدگان اور زلزلہ زدگان کو بھی پیچھے چھوڑتی تھی پر رحم کھا کر ہمیں آدھی بوتل تھما دیا کرتا تھا اور جوتے جو وہی جو ہر حال میں پڑنے تھے تو کیوں نہ بوتل پی کر پڑتے۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

July 11, 2015

یادوں کا گاؤں



پیش تحریر: سنجیدگی ، بے ربطگی اور طوالت کے لیے پیشگی معذرت

نو نمبر چونگی چوک ایک طرح کا ملتان شہر کا داخلی دروازہ ہے۔ اندرون شہر کے پانچ دروازے جو کبھی قدیمی دروازے ہوا کرتے تھے اب اندرون شہر سے بھی زیادہ سمٹ گئے ہیں اور اندرون شہر ان دروازوں سے باہر نکلا لگتا ہے۔ 9 نمبر چونگی نئے ملتان کا دروازہ ہے جیسے عزیز ہوٹل چوک ، چوک کمہاراں والا اور چوک بی سی جنہوں نے دولت گیٹ، دہلی گیٹ، پاک گیٹ، حرم گیٹ، بوہڑ گیٹ اور لاہوری (لوہاری) گیٹ کی جگہ لے لی ہے۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

June 1, 2015

مجسمے اور جملے-1



پچھلے دنوں ایک بلاگر صاحب نے ہمارے بارے لکھتے ہوئے کہا کہ امید واثق ہے کہ بعد مرنے کے میرے کمپیوٹر سے حسینوں کی تصویریں اور خطوط بتاں کی بجائے کسی لدھر کی تصویر اور کسی لمڈھینگ کی وصیت نکلے گی۔ ہم نے کہا حضور اگر ایسا ہو جائے تو سمجھیں اب زندگی کا مقصد پورا ہو گیا ہے سچ ہے بے عزتی سے بچنے کا سب سے کارگر طریقہ یہ ہے کہ بے عزتی محسوس ہی نہ کرو۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

May 21, 2015

کہا کینیڈا کو جاؤ۔ کہا ویزا آپ دیں گے؟



ویزوں کے متعلق میرا ایمان ہے کہ ویزا سیکشن میں ویزا جاری کرنے والا شخص "اکڑ بکڑ بمبے بو" کے مترادف اسی کی مادری زبان میں خشوع و خضوع سے پڑھ کر جس درخواست پر سو آتا ہے اس کو ویزا جاری کر دیتا ہے اور باقیوں کو یوں ہی الٹے پلٹے اعتراضات لگا کر لوٹا دیتا ہے کہ اگر جن کو ویزا ملتا ہے اور جن کو نہیں ملتا سے پوچھیں تو کچھ بھی عقل میں نہیں پڑتا تاہم اگر کوئی بات عقل میں آتی ہے تو وہ یہ کہ یا تو ان لوگوں کو ویزا مل جاتے ہے جنکے اکاؤنٹ پیسوں سے لدے پھدے ہوتے ہیں یا جن کے بارے پکا یقین ہوتا ہے کہ یہ ایک بار چلے گئے تو واپس نہیں آنا اور آپ کے اور میرے جیسے جو جانے کی بجائے واپسی پر توجہ مرکوز کیے ہوتے ہیں ٹکا سا جواب لیے اوقات میں واپس آ جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 21, 2015

ایک بلاگ کتے بلوں کے لیے



اگر آپ نام پڑھ کر یہ سوچ رہے ہیں شاید یہ دو ٹانگوں والے کتے بلوں کے لیے لکھا گیاہے تو آپ کی سوچ غلط ہے یہ بلاگ جانوروں کے لیے ہی لکھا گیا ہے۔

 نہیں یاد کب جانوروں سے دلچسپی ہوئی لیکن امید واثق ہے جب انسانوں نے ہمیں گھاس ڈالنا چھوڑ دیا تو ہم نے خود گھاس خوروں سے دوستی کر لی۔ جب چھوٹا تو والد صاحب ایک کتاب لے آئے تھے جس میں پرندوں کی رنگ برنگ تصاویر تھیں اور ان کے بارے معلومات تھی۔ لیکن وہ انگریزی میں تھی اور انگریزی تو اب تک کسی نک چڑھی لڑکی کی طرح ہمیں سہلاتی رہتی ہے ہے تب کیا لفٹانا تھا۔ لیکن پھر وہ کتاب کہیں کھو گئی تاہم چڑیا گھر جانے کا شوق اس کتاب کے آنے اور کھونے سے بھی پہلے کا تھا۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

January 19, 2015

سیلفی - ایلفی


لوگ پوچھتے ہیں اتنی جگہیں گھومے ، اتنی تصاویر اتاریں آپ کی خود کی تصویر کہیں نہیں نظر آئی۔ یوں تو میں کہتا ہوں کہ کبھی کوئی اور بھی دکھا میری تصویر میں کیا؟ جن خوش نصیبوں کو اپنی کھینچی تصاویر کا دیدار کرایا ان کا پہلا سوال تھا کہ کیا اس شہر میں کوئی بندہ بشر نہیں بستا تھا؟ اب کیا بتاؤں عمارات کی تصاویر کھینچتے وقت مجھے سب سے زیادہ شکایت درختوں سے ہوتی ہے جو عین عمارت کے سامنے منہ اٹھا کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور سارا منظر برباد کر دیتے ہیں جبکہ ابھی تو مجھے درخت پسند ہیں خود سوچیں بندوں کے بارے کیا رائے ہو گی جو کہ مجھے پسند بھی نہیں۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

December 15, 2014

دیکھنا فٹ بال کا میچ لزبن میں

dekhna football ka match Lisbon main

سفر نامہ میڈرڈ اور ریال میڈرڈ  بارے پڑھ کر آپ ہماری فٹ بال سے محبت بارے تو آپ آگاہ ہی ہوں گے۔ اب  ایسا ہوا کہ اللہ نے کچھ ایسا دماغ میں ڈالا کہ پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے موضوع بھی فٹ بال کو چنا یعنی کی پڑھائی کہ پڑھائی اور مزے کا مزہ۔ ہر پاکستانی کی طرح یوں تو کرکٹ ہی میرا پہلا پیار تھا لیکن جب محبوب ہی آوارہ نکلے تو بندہ خاک محبت کرے تو آہستہ آہستہ فٹ بال کا ہو کر رہ گیا۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad