August 21, 2015
March 11, 2015
جب ان ناتواں کندھوں پر اس سائسنی ناول کا دیپاچہ لکھنے کی ذمہ داری عائد کی گئی تو ایک لمحے کو تو میں گڑ بڑا گیا کہ کہیں سہواً یا انجانے میں مجھ سے کوئی ایسی حرکت نہ سرزد ہو جائے جو کہ اس قلم کے تقدس اور رائے کی امانت کو گہنا دے۔ اہل قلم صدیوں سے حق لکھتے آئے ہیں اور لکھتے آئیں گے اور انہی کے دم سے معاشروں اور معاشرت میں اہل صفا اور اہل ایمان کا نام قائم ہے وگرنہ تو قیامت بس دہلیز پر کھڑی سمجھیے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
August 11, 2013
Asal, Naqal
ہم تین دوست تھے۔۔۔ تینوں ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھتے تھے۔گاؤں تو خیر بڑے شہر والے کہتے ہیں لیکن اصل میں یہ ایک چھوٹا شہر ہے۔ ایک غیر معروف تحصیل ہے۔اور ہم تینوں سولہویں کرنے ایک بڑے شہر کی
یونیورسٹی میں آئے تھے۔چھوٹے شہروں سے آنے والے عام طور پر اس پانی کے ریلے کی مانند ہو تے ہیں جو مٹی اور پتھر کے ڈالے گئے بند سے ٹکراتا پھر رہا ہوتا ہے اور جہاں پشتہ کمزور ہوتا ہے وہاں سے بہہ نکلتا ہے۔ہم
تینوں کو کلچر اور ثقافت کے دامن میں پناہ ملی اور ہمارا یونیورسٹی میں کم اور ادبی ثقافتی محفلوں میں اُٹھنا بیٹھنا زیادہ ہو گیا۔
گلوکاری،شاعری،طبلہ نوازی،کہانی نویسی و مکالمے اور ا ن کو بولنے کا ڈھنگ۔یہی کچھ ہمارا اُوڑھنا بچھونا تھا۔
معاشرتی سائنس میں ماسٹرز کرنا ویسے بھی کوئی ایسا محنت طلب کام نہیں۔۔۔ اور ہوتا بھی سہی تو ہمیں کون صحیح
غلط کی تلقین کرنے والا تھا۔ لہٰذا پڑھائی اور شوق ساتھ چل پڑے اور آہستہ آہستہ ہم پر یہ راز منکشف ہوگیا کہ عام طور پر لوگوں کے دلوں میں ادب و ثقافت کی بڑی چاہ ہے۔۔۔ ان لوگوں کو دل ہی دل میں بڑی عزت دی
جاتی ہے جو اس شعبے سے منسلک ہوتے ہیں۔دل میں طلب مزید بڑھ گئی۔
طلبا عام طور پر کھانا کھانے کی ایسی جگہیں تلاش کرتے ہیں جہاں ان کے پیسے بھی کم لگیں اور کھانا بھی پیٹ بھر کر مل جائے،ایسی جگہیں عام طور پر اندرونِ شہر بکثرت پائی جاتی ہیں۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
July 15, 2013
Kon ki khoj
راہ چلتے میری تم پر نظر پڑی ،مجھے ایک جانا پہچانا سا احساس ہوا۔۔۔جیسے ایک شناسا سا ذائقہ زبان پر آ جائے۔ تم نے ایک لمحے کو مجھے دیکھا۔ تمھاری آنکھوں میں شناسائی تھی۔ تمھاری مسکراہٹ۔۔۔ جانی پہچانی مسکراہٹ تھی۔ جیسے موڑ مڑتے ہی سامنے منزل سامنے آگئی ہو۔ اچانک ہی کوئی کھوج کی تکلیف سے آزاد ہو گیا ہو۔میری تمام حسیات اس کی طرف مرکوز ہو گئیں۔کون ہے؟کون ہے؟کون ہے؟کہاں دیکھا ہے؟کہاں دیکھا ہے؟کہاں دیکھا ہے؟میں وہاں رُکا تو نہیں لیکن اس لمحے کی تصویر میرے دل نے محفوظ کر لی اور میں یادداشت کے سہارے ماضی کے اوراق پلٹنے لگا۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
May 13, 2013
Ashraf-ul-Makhlooqat-afsana/short story
ایک تھا جنگل. اب پتہ نہیں وہ جنگل تھا یا نہیں تاہم وہاں قانون جنگل کا ہی چلتا تھا۔ کسی بوڑھے نیک دل شیر نے جس کی اولاد نہیں تھی مرتے وقت یہ وصیت کی تھی کہ آج کے بعد یہاں کوئی شیر اس وجہ سے بادشاہ نہیں رہ پائے گا کہ وہ طاقت ور ہے، اس کی بجائے جو جانور سب سے زیادہ قابل ہو گاوہی بادشاہی کے کا حقدار ہو گا۔ تاہم قابلیت کی تعریف اس نیک بخت نے بھی نہ کی۔ شروع شروع میں تو وہاں شیروں کا ہی بول بالا رہا تاہم بدلتے وقت نے جنگل بھی بدل ڈالا اور قانون یہ قرار پایا کہ جو سب سے زیادہ قیمتی پتھر جمع کر پائے گا وہی بادشاہ بن پائے گا۔ قیمتی پتھر وہاں عام نہیں ملتے تھے بلکہ ان کو ڈھونڈنے کی خاطر پہاڑوں، دریاؤں، وادیوں، صحراؤں کی خاک چھاننی پڑتی تھی۔ کئی جانور تو اس تلاش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ تاہم ہوا یوں کہ ایک بار اس جنگل کا حکمران ایک گیدڑ بن بیٹھا ۔ اب اس نے اتنے پتھر جمع کیسے کیے یہ ایک الگ کہانی ہے تاہم اس کو پتھر گننے والی کمیٹی کو چوری شدہ پتھروں اور غلط گنتی پر رام کرنے کیلئے بڑے جتن کرنے پڑے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
April 13, 2013
Nagihani
جگہ کی کمی کے پیش نظر درخواست کی جاتی ہے کہ براہ کرم ایک ہفتے تک مرنے سے احتراز کیجیے۔خلاف ورزی کرنے والے کے ورثا کو حوالہ پولیس کر کے انتہائی سخت سزا دی جائے گی۔ قبرستان میں توسیع و ترقی کا کام تیزی سے جاری ہے جیسے ہی کام مکمل ہو گا مرنے پر سے پابندی اٹھا لی جائے گی۔
یہ نوٹس محض شہر کے واحد قبرستان کے باہر آویزاں نہیں کیا گیا تھا بلکہ ہر ممکن طریقے سے اسکی تشہیر بھی کی گئی تھی۔ بات صرف وال چاکنگ ،پمفلٹ اور اخباری اشتہاروں تک محدود نہیں رکھی گئی تھی بلکہ گھر گھر آگاہی مہم کے ذریعے ہر زندہ فرد تک یہ حکم نامہ پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔آخر حکومت کی بھی کوئی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حکومت کا فرض تھا کہ ہر زندہ فرد تک حکم ناموں کی رسائی ممکن بنائی جائے اور کم از کم اس معاملے وہ کامیاب ہوئی تھی۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
March 13, 2013
drakht aur insan- afsana/ kahani
وارسا کا ویجنکی پارک جو اوپر تلے تین سطحوں پر بنایا گیا ہے میں فیڈرک شوپن کے مجسمے کے پیچھے سے نیچے اترتے
ہوئے درختوں کی قطار میں میرا ساتواں نمبر ہے۔ میں کب سے یہاں ہوں ، کہاں لگایا گیا، کیسے یہاں آیا، وہ تو میں تب ہی بتا سکتا اگر ہم بھی انسانوں کی طرح ڈائری لکھا کرتے یا ہمارا بھی شہری انتظامیہ میں اندراج کرایا جاتا لیکن میری پہلی یاد اسی پارک کی ہے جب ایک سیاہ کوا میری ٹہنی پر بیٹھا کائیں کائیں کرتا کہہ رہا تھا کہ "بڑے درختوں کو کٹے اتنے دن ہو گئے کہ لگتا ہے کہ وہ یہاں تھے ہی نہیں" ۔ ایک بوڑھے کوے نے جس کو پتہ تھا وہ اس بار کی برف نہیں دیکھ پائے گا نے جواب دیا کہ "رہنا جھوٹ ہے اور جانا سچ ہے"۔ حالانکہ وہ میری پہلی یاد ہے لیکن میں اچھی طرح یاد ہے اس زمانے میں بڑے بوڑھوں کی باتوں ہر منہ کا ذائقہ خراب نہیں ہوا کرتا تھا کیونکہ تب دنیا کا نظام سائنس کی بجائے بڑوں کی باتوں پر چل رہا تھا۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
February 13, 2013
(Mehnat (afsana/kahani
محنت ، توجہ اور لگن ہی واحد شے ہے جوآپ کو آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔پروفیسر شاہ کے یہ الفاط میری یاداشت سے کبھی محو نہیں ہوئے۔یونیورسٹی میں پہلے لیکچر کے دوران کہے گئے الفاظ مجھے ایسے یاد ہیں جیسے کل کی بات رہی ہو۔محنت ،توجہ اور لگن اور ان سے بہتر ہیں انتھک محنت ،انتھک توجہ اور انتھک لگن۔پروفیسر شاہ ہمارے چئیرمین بھی تھے اور بہت سے لوگوں کے آئیڈیل بھی۔ایک تو وہ عمر ہی ویسی ہوتی ہے جس میں آئیڈیل جیسی فضولیات خود سے پھوٹ پڑتی ہیں اور دوسرا گفتگو اور انداز۔وہ بلا شبہ کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتے تھے۔
ہمارا نظامِ تعلیم بذاتِ خود ایک تماشہ ہے۔چودہ سال شجرِ ممنوعہ سے دوری کے بعد اب لڑکے،لڑکیاں اکٹھے تھے اور یونیورسٹی حال ہی میں ایک بار پھر سالانہ امتحان کی بجائے سمسٹر سسٹم رائج کر چکی تھی اور وہ بھی ہمارے لیے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ اب تک ہم سالانہ بلکہ چند مرتبہ تو دو سالہ امتحانات سے پاس ہوتے آئے تھے اور ایسے ہی سسٹم کا فائدہ اٹھا کر میں ٹیوشنوں ،سفارشوں اور رٹے کی مدد سے گرایجوایشن میں یونیورسٹی میں فرسٹ آچکی تھی جسکی وجہ سے یونیورسٹی میں داخلے سے پہلے ہی میرے کندھوں پر گولڈمیڈل کا بوجھ منتقل ہو چکا تھا۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
January 13, 2013
Chal
جب پہلی بار چھل قصبے پہنچی تھی تو میری کاغذ کی کشتی سب مقابلے جیت گئی تھی اور ملکوں کے لڑکے جو شہر کے اسکولوں میں پڑھتے تھے کمیوں کے منہ نہ لگنے کا بہانہ کر کے مقابلے سے کترانے لگے تھے۔بارہ سال بعد جب دوبارہ پانی قصبے پہنچا تو اس بار اس نے بڑے بڑے مکان گرا دیے تھے اور اس بار میں اصلی والی کشتی چلا کر لوگوں کو دریا پار کروانے لگا۔
پچھلی بار ٹخنوں ٹخنوں پانی کو حضرت شاہ پاک کے دربار کی برکت قرار دیا کہ انہوں نے پانی کو دم نہ مارنے دیا تھا ورنہ ایسا پانی بڑے بوڑھوں نے ساری زندگی نہ دیکھا تھااور مولوی صاحب نے اسے خدا کے عذاب کی ایک جھلک قرار دیا تھا اور جس جمعہ ملکوں سے کوئی مسجد نہ آیا انہوں نے لوگوں کو گناہ سے تائب ہونے کا حکم دیا تاکہ آئندہ کچھ ایسا نہ ہو۔ان کی نظر میں ان کے علاوہ سب گناہ گار تھے ملکوں کو حاکم ہونے کی وجہ سے البتہ چھوٹ تھی۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
December 15, 2012
Station Kahani
وہ ایک چھوٹا سا ریل کا اسٹیشن ہے جہاں کا اصل رش اس کے جنکشن ہونے کیوجہ سے ہے۔وہاں سے لوگ ایک ٹرین بدل کر دوسری میں سوار ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو اصل یہاں کے لیے ہی آتے ہیں۔میری طرح سب ایک ٹرین سے اتر کر اپنی اپنی ٹرینوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں جو انکو انکی اصلی منزل تک لے جاتی ہے۔چھٹیوں میں یہاں سے گزرنے والے لوگوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے جو شہروں سے واپسی اپنے گھروں کو جاتے ہیں اور کام والے دنوں میں واپس شہرجاتے ہیں۔یوں تو میں جتنی بار اس اسٹیشن سے گزرا ہر بار اپنی منزل کے شہر کی ٹکٹ میں پہلے سے ہی لیکر چلتا تھا لیکن اس روز ٹرین کے بالکل تیار ہونے کیوجہ سے اور کاؤنٹر پر بیٹھی خاتون کے کہنے پر میں نے یہاں تک کی ہی ٹکٹ خرید لی کیوں کہ اس خاتون کے خیال میں کے دوسری ٹکٹ کے پرنٹ کے نکلتے نکلتے ٹرین کے نکلنے کا ڈر تھا۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
November 15, 2012
Nae Dunya
نئے اڈے پر اتر کر روٹ 721 والی بس میں بیٹھ جائیں اور جہاں اسکا آخری سٹاپ ہے وہاں اتر کر دن چڑھنے والی طرف
چھوٹی کچی سڑک پر چلنا شروع کر دیں تو وہ تقریباً پندرہ بیگھے آگے جا کر پکی سڑک سے مل جاتی ہے جو سیدھا ہماری بستی آتی ہے۔راستہ بھی بڑے بند سے ادھر کا ہے اور بستی کا نام بھی چور پور ہے لیکن اس کے باوجود آپ جب بھی آئیں بے فکر ہو کر آئیں کوئی خطرے والی بات نہیں،نہ کوئی چور ہے نہ کوئی ڈاکو ہے۔حالانکہ کمیٹی صدر میں درخواست دی ہے کہ بستی کا نام تبدیل کیا جائے لیکن آپ تو پڑھے لکھے ہیں آپ کو تو پتہ ہے کہ سرکار کو اور بھی بہت سے کام نمٹانے ہیں لہذا یہ مسئلہ ابھی تک مسئلے کی حیثیت اختیار نہیں کر سکا۔ہر الیکشن کے موقع پر خواہ بلدیاتی ہوں یا اس سے اوپر والی سطح کے ہر امیدوار یقین دہانی کراتا ہے کہ سب سے پہلا کام اس بستی کا نام تبدیل کرنا ہوگالیکن بات پھر وہی ہے کہ آپ تو پڑھے لکھے ہیں کہ ہر وقت کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔لیکن آپ اگر آئیں تو سڑک کے خاتمے پر فاروق آباد کا بورڈ دیکھ کر پریشان نہ ہوں۔اپنی مدد آپ کے تحت مولوی صاحب کے مشورے کے بعد ہم نے اپنی بستی کا نام خود ہی تبدیل کر دیا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اگر بستی میں مسجد کی بجائے امام بارگاہ ہوتی تو نام شاید علی پور ہوتا۔یہ الگ بات ہے کہ چار دن قبل جب سلیما موچی شناختی کارڈ بنوانے گیا تو اس کے کہنے کے باوجود اس کا پتہ بستی چورپور،بڑابند،ڈاکخانہ ٹاہلییاں والہ ،تحصیل صدر ہی لکھا گیاہے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
October 16, 2012
اس ڈبے میں موجود تمام افراد کی نظر اس لڑکی پر تھی۔لیکن مجھے ان سب سے زیادہ غصہ اس لڑکی پر تھا جو سب کچھ جانتے بوجھتے بھی انجان بنی بیٹھی تھی۔بجائے اس کے وہ محتاط ہوتی ،خوفزدہ دکھتی یا سہمی لگتی وہ تو ایسے اطمنان سے بیٹھی تھی جیسے تمام اشارے کنایے اس کی بجائے کسی کھڑکی کے لیے کیے جا رہے ہیں،فضول قہقہے اور سرگوشیاں گارڈ پر کی جارہی ہوں اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر گھورا ٹرین کے ڈبے کو جا رہا ہوجس میں ہم سب سوار تھے ، ایک خوبصورت سی لڑکی کو دیکھ کرحسب معمول سب اپنی اپنی مردانگی دکھانے پر تل گئے تھے۔
کچھ دیر تو میں کڑھتا رہا کہ مرد ہونا ہی باعثِ شرم ہے لیکن جب اس لڑکی کی طرف سے کسی قسم کی جھجک دیکھنے کو نہ ملی تو میرا غصہ ساتویں آسمان پر جا پہنچا ،اچھا یوں تو یوں سہی،اگر اس کو اپنی عزت کی کوئی پرواہ نہیں تو ایسے سہی۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
January 4, 2010
zaat
تیرہ سال چھ مہینے اور نو دن کے بعد محمد افضل نے فیصلہ کیا کہ اب وطن کی یاد ناقابلِ برداشت ہے اور اب وقت آگیا ہے جب واپس مڑ جانا چاہیے۔لندن میں محمد افضل کے نام سے جانا جانے والا اپنے وطن میں فضلی نائی کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔پر یہ تو تیرہ سال چھ ماہ قبل کی بات تھی اب پتہ نہیں وہ اس کو پہچانتے بھی ہیں کہ نہیں۔نجانے اس کے من میں کیا سمائی تھی کہ سب کچھ چھوڑ کر دو کپڑوں میں ہی گاؤں کو چھوڑ آیا۔گاؤں میں تو خیر تھا کیا ایسا جس کو چھوڑنے میں مشکل ہوتی ،ایک بوڑھا باپ جس کا پسندیدہ مشغلہ فضلی کو گالیا ں نکالنا اور مارنا تھا، ایک کچا گھر اور وہ بھی چوہدریوں کی مہربانی،چند دوست جو کہیں بھی بنائے جا سکتے ہیں ، ایک ماں اور ایک شمو جو ہر جمعرات شاہوں کے مزار پر اس کے نام
کا دیا جلانے کے بعد اس سے ملنے آیا
کرتی تھی۔گاؤں چھوڑنا کوئی ایسا گھاٹے کا سودا تونہ تھا ،پر چھوٹنے پر آیا تو پہلے گاؤں چھوٹا پھر شہر اور آخر میں ملک۔
اس تحریر کو شیئر کریں;













