March 1, 2015

ایجادات اور ان کا حقیقی ماخد - ایک مکمل غیر سائنسی بلاگ




آج جس کو دیکھیں مغرب کی ٹکنالوجی کی بات کرتا ہے۔ مغرب خود بھی نازاں ہے کہ ہمارا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور ہم 
بےچارے مشرقی اور ترقی پذیر جو پذیرائی ہونے میں نہیں آرہی کے شکار ممالک ان سے اور ان کی ترقی سے بہت متاثر ہیں اور دن رات انہی کی ٹیکنالوجی کے گن گاتے ہیں حتی کہ کوئی اگر مغرب مخالف لکھتا ہے تو انہی کی بنائے کمپیوٹرز پر انہی کے قلم سے انہی کے چھاپہ خانے سے۔ تو ایسے لوگوں کی تسلی کے لیے اور دل کے اطمینان کے خاطر یہ تحقیق حاضر ہے کہ مغرب نے دراصل ہماری سوچ اور چیزوں پر ہاتھ صاف کر کے یہ مقام حاصل کیا ہے۔
جب بھی کوئی ایجاد ہوتی ہے تو وہ ایسے نہیں بن جاتی کہ صبح سو کر اٹھے اور بلب بنا دیا، بلکہ کسی شے سے تحریک ملتی ہے، کسی شے کو بہتر بنایا جاتا ہے اور بعض اوقات تو کسی اور کی ایجاد پر ہاتھ صاف کیا جاتا ہے جیسے یہ اوون بننے کی اصل کہانی کسی کو نہیں پتہ کہ اوون دراصل ایک شوہر نےبنایا تھا کہ جب وہ شام کو تھکا ہارا گھر آتا تو بیوی کو کہتا بیگم کھانا وہ ٹھنڈا یخ کھانا اس کے منہ پر لامارتی اور ٹی وی کا ریموٹ ہاتھ میں پکڑے شیطان کی آنت اسٹار پلس و ترک ڈرامے دیکھتی رہتی۔ آخر تنگ آکر اس نے اوون بنا ڈالا اور اس کا نام اون (own) یعنی اپنا رکھا لیکن بعد میں وہ بگڑ کر اوون(oven) ہو گیا۔ تو ایسے ہی آج ہم ان چند مشہور اشیا کا ذکر کریں گے جو آج کل سب کے استعمال میں ہیں لیکن ان کی اصلیت کیا ہے کوئی نہیں جانتا۔

 گوگل-جیبی جنتری: گوگل جس کے پاس جناتی معلومات ہیں۔ وہ معلومات جو شاید جمشید کے جام جم میں نہ تھیں گوگل آپ کو ایک کلک پر بہم پہنچاتا ہے دراصل کوئی ایسی نئی ایجاد بھی نہیں۔ پرانے زمانے یعنی اسی اور نوے کی دہائی کے نوجوان و بوڑھوں کو جیبی جنتری یاد ہوگی۔ جیبی جنتری بغیر آن لائن بغیر انٹر نیٹ بغیر کمپیوٹر گوگل کا ہی کام سر انجام دیتی تھی۔ صد سالہ کیلنڈر سے لے کر کپڑے پر چائے سے لگے والا داغ۔ کھانا پکانے کی ترکیب سے محبوب کو قابو کرنے کا فارمولا۔ زکام سے بچاؤ کی تدبیر سے لیکر چھٹا کلمہ، دلچسپ و عجیب ست لیکر اسلامی نام، نہ صرف گذشتہ سالوں میں کیا ہوا تھا بلکہ آئندہ سالوں مٰیں کیا ہوگا بھی اس چند صفحات کے چھوٹی سے کتابچے سے تفصیلاً معلوم ہوتا تھا۔ بس فرق یہ ہے کہ گوگل ہر زبان میں یہ مواد مہیا کرتا ہے جبکہ جیبی جنتری فقط اردو میں میسر تھی اور اسی لیے اس زمانے میں شاعر نے کہا تھا کہ سارے جہان میں دھوم ہماری زبان کی ہے کہ تب ظاہر ہے انگریز اور دوسری زبانوں کے بولنے والے وہی جیبی جنتری ترجمہ شدہ چھاپتے ہوں گے لیکن اب کوئی اس جنتری کو کوئی نہیں جانتا لیکن گوگل کی واہ واہ ہے۔ سچ ہے انسان اپنے محسنوں کو بھلانے میں ماہر ہے۔

فیس بک- ماسی خیبر میل: اپنے مارک زرک برگ جو بڑے فیس بک کے ماہر بنے پھرتے کو یہ مان لینا چاہیے کہ دراصل فیس بک کا خیال ان کو اپنے پاکستانی اور ہندستانی ہم جماعتوں کی معاشرت کا سن کر آیا تھا۔ بس فرق یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں فیس بک پر اکاؤنٹ تو ہم سب کے ہوتے تھے لیکن پاسورڈ passwordصرف ایک شخص کے پاس ہوتا تھا جس کو عرف عام میں ماسی خیبر میل یا لگائی بجھائی کرنے والی خاتون یا لال بجھکڑ یا جو بھی آپکے محلے میں رائج رہا ہوگا کہتے تھے جو ہر محلے ہر کالونی میں کم از کم ایک ضرور پائی جاتی تھی اور اس کو ہمارے ہر اسٹیٹس Status کا پتہ ہوتا تھا کہ محمد عمران "فیل ہوگیا، اللہ کرے ابا کو پتہ نہ چلے"، آسما بی بی " میں کتنی سوہنی ہوں" تین لائیک محمد عمران، محمد کامران اور محمد الیاس۔ ماسی کو پتہ ہوتا تھا کون نئے رشتے میں منسلک ہوا کس کا کملیکیٹڈ complicated ہے اور کون اصل میں بندھ چکا ہے لیکن ابھی تک سنگل لکھائی پھرتا ہے۔ ماسی کو آنے جانے منزل اور راستے سب کا پتہ ہوتا تھا۔ بس مارک زرگ برگ کا کمال یہ ہے کہ اس نے ہم سب کو ماسی خیبر میل بنا دیا ہے اور ہم سب فیس بکی ہوئے پھر رہے ہیں۔

سپر مین- برقع: اب تو ویسے بھی برقع اوینجر burka avenger آ گیا ہے جو پہلی نظر میں بکرا اوینجر معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ سپر مین کا اصل آئیڈیا Jerry Siegelجیری سیگل اور Joe Shuster جو شسٹر کو برقع دیکھ کر ہی آیا تھا۔ شٹل کاک ہو یا دوسرا برقع اس کو دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے کہ پر رکھتی ہے مگر طاقت پرواز نہیں رکھتی ہے۔

وائی فائی۔ مولا جٹ (مولے کی للکار اور ماں کی آواز کا میلوں کا سفر):میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں بنا تار کمیونیکیشن wireless communicationکا خیال اس کے موجد کو مولا جٹ فلم دیکھ کر آیا ہوگا۔ اگر آپ نے مولا جٹ نہیں دیکھی تو میری نصحیت ہے کہ پہلی ہی فرصت میں اس کو دیکھ ڈالیں۔ ایسی فلمیں روز روز نہیں بنتیں۔ اور یہ جو انگریزی فلموں کی خوبیاں بیان کرتے نہیں تھکتے وہ بھی ذرا پاکستانی ٹیکنالوجی سے آشنا ہو سکیں۔ مولا جٹ میں مولے کی ماں جب کبھی اس کو آواز دیتی ہے وہ خواہ کتنے میلوں پر ہو وہ گھوڑا دوڑاتے وہاں پہنچ جاتا ہے۔ اچھا کبھی خوشی کبھی غم میں شاہ رخ خان کی ماں کرے تو محبت ہمارا مولا کرے تو اوور ایکٹنگ۔ لیکن معاملہ یہاں تک نہیں بلکہ مولا جٹ ان لندن میں مولا جٹ دشمنی سے تائب ہو کر لندن جا بستا ہے لیکن اس کے مخالفین اور فلم کے شائقین کی کم بختی کہ وہ مولا جٹ کی ماں کو تنگ کرنے پہنچ جاتے ہیں اور ماں کی آواز پر مولا جٹ گھوڑے پر اسی وقت واپس پہنچ کر اسی لمحے مخالفین کو کڑی سزا دیتا ہے۔ اب آپ کو پھر اعتراض ہو گا بجائے آپ مولا جٹ کی وائرلِس ٹکنالوجی اور ٹائم لس جرنی Timeless journey کو سراہیں آپ کیڑے نکالیں گے لیکن اگر وہی کام گارڈین آف گلیگسی Guardian of the Galaxy میں ہو یا انٹرسٹیلر Interstellar میں ہو تو ان کو آسکر Oscar سے نوازیں بس یہی بات ہے کہ ہماری بنیاد پر عمارت اٹھا کر گورے عیش کر رہے ہیں اور ہم ایسےاحساس کمتری کے مارے کہ ایک بےچارے نے پانی سے گاڑی چلائی تو ہم نے اس کو جیل میں ڈکیتی کے الزام میں ڈال دیا۔ میری مانیں یہ سب بین الاقو امی سازش ہے کہ جرمنوں نے ہوا سے گاڑی چلا دی ان کو کسی نے نہیں پکڑا۔ ظلم ہے ناں کہ جرمن ہوا سے گاڑی چلا لیں ہم پانی سے بھی نہ چلائیں ویسے ہوا سے گاڑی چلانے کا منصوبہ بھی کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ ہمارے بچپن میں کاغذ سے بنائے جہازوں کا چربہ ہی ہے۔