پنجاب حکومت نے حال ہی میں ایک تجویز پر غور کیا تھا کہ ایسی طالبات کو پانچ نمبر اضافی دیے جائیں جو حجاب پہنیں۔ مزید برآں ایسی طالبات کو حاضری میں بھی پانچ فیصد رعایت دی جائے- تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ سہولت ان کو دی جائے گی جو سارا سال حجاب پہنیں گی یا فقط امتحان والے روز پہن کر آئیں گی- سارا سال کے لیے گویا حاضری رجسٹر میں ایک خانہ حجاب کا بھی ڈالنا ہو گا- باقی امتحان والے دن حجاب پہننے سے مجھے وہ لڑکے یاد آگئے جو باریش پروفیسر صاحب سے اچھے نمبر لینے کے لیے باجماعت صف اول میں نماز ادا کرنا شروع کر دیتے تھے- ایک یاد میری ایک پولستانی استانی کی بھی ابھرتی ہے جس نے ایک بار کہا تھا جس دن ہمارا زبانی امتحان ہوا کرتا تھا تو ہم مختصر ترین سکرٹ پہن کر امتحان دینے جایا کرتے تھے۔
April 9, 2017
March 17, 2017
جب میں ماس کمیونیکشن میں ماسٹرز کر رہا تھا تو تب میں نے اور میرے چند دوستوں نے ملکر ایک آڈیو ڈرامہ بنایا تھا جس کو تحریر میں نے کیا تھا- بعد میں ہم نے تین چار کلاسوں میں ڈرامے کو پیش کیا اور اس پر لوگوں کے تاثرات و تنقید سنی اور حتی المقدور جواب دینے کی کوشش کی- اب تنقید تو ایسے ہی تھے کہ آپ کچھ پڑھے بغیر کسی کتاب پر تبصرہ سن کر اس پر تنقید کرنا چالو ہو جائیں کہ آدھے سے زیادہ لوگوں نے کبھی زندگی میں آڈیو یا صوتی ڈرامہ سنا ہی نہیں تھا کجا اس کی تکنیکی خامیاں پکڑنا لیکن آفرین ہے کہ نوے فیصد لوگوں نے کھل کر تنقید کی –
اس تحریر کو شیئر کریں;
November 1, 2016
پیش لفظ: اس کہانی کے تمام کردار و واقعات فرضی ہیں کسی بھی قسم کی مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ اور اگر قمر وزیر خود یہ اردو بلاگ پڑھ لے جو کہ مشکل ہے اور سمجھ لے کہ اس کے بارے لکھا گیا ہے جو کہ ناممکن ہے تو میں اس کو کہنا چاہتا ہوں کہ بھائی ایک تو یہ میں نے لکھا نہیں ، دوسرا یہ جھوٹ ہے ، تیسرا جانے دے ناں دوست نہیں پھر۔۔۔۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
October 1, 2015
یہ جو میں نان اسٹاپ اناپ شناپ بولتا رہتا ہوں تو مجھے ایک لطیفہ یاد آجاتا ہے کہ کسی نے کہا "فلاں شخص بولتا بہت زیادہ ہے" تو جواب ملا "اس کا والد کمینٹیٹر، چاچا مقرر اور والدہ ایک عورت ہیں"۔ تو گرچہ میرے والد صاحب اور چچا ایسے کسی شعبے سے منسلک نہ سہی میری والدہ ایک عورت تو بہرحال ہیں ہی ہیں اور میں خود بھی ماشا اللہ سے مقرر رہا ہوں ۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
October 13, 2014
Madrid jana hai to football main aa
میڈرڈ Madrd جس کو آزاد دائرۃالمعارف یعنی وکی پیڈیا Wikipedia میں میدرد بھی لکھا گیا ہے اور جو اکثر مقامات کے ناموں کی طرح انگریزی اثر کے تحت میڈرڈ بن گیا ہے اسپین Spain کا دارالحکومت ہے اور میرے سمیت ہر فٹ بال کا شوق رکھنے والے کے لیے اہم مقام ہے۔ لیکن اس سے قبل کے میڈرڈ کے سفر کا احوال لکھا جائے بہتر ہے کہ آپ میرے فٹ بال کے کارناموں سے بھی واقف ہوں جائیں تاکہ میڈرڈ سے میری وابستگی آپ کی سمجھ میں آ سکے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
January 13, 2014
jeetna hamara hafta e khail main hockey ka muqabla
تو ہمارے ملتان پبلک اسکول میں ہر سال ایک اسپورٹس ویک Sports weak یعنی ہفتہ کھیل منعقد ہوا کرتا تھا جس میں تمام کلاسیں ناک آؤٹ کی بنیاد پر کرکٹ، ہاکی، فٹ بال ،والی بال وغیرہ میں ایک دوسرے کے مقابل آیا کرتی تھیں۔
دسویں جماعت میں ہماری کلاس والوں نے ہمیں کوئی خاص گھاس نہ ڈالی اور بارہویں کھلاڑی کے طور پر ہم نے ہاکی میں اپنی ٹیم کو مخالف ٹیم سے شکست کھاتا دیکھا اور ہمارے ہفتہ کھیل کا اختتام ہو گیا۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
May 19, 2013
Pakistan se bahir (Europe main) kisi pakistani se pehli mulaqat
ملتان سے وارسا کا 30 گھنٹے کا سفر ختم کر کے جب ہم وارسا کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو پتہ لگا کہ ہمیں یونیورسٹی کی طرف سے جس نے لینے آنا تھا وہ فلائیٹ کی تاخیر کی وجہ سے واپس جا چکا ہے اور ہم جو پہلی بار گھر سے باہر نکلے تھے گوروں کےدیس میں بے یارو مددگار کھڑے تھے۔گھر بتانا چاہا کہ ہم خیر خیریت سے پولینڈ پہنچ چکے ہیں تو پانچ یورو کا کارڈ ہیلو ہائے میں ہی اگلے جہاں پہنچ گیا جس سے ہمیں یورپ اور آسمان کی قربت کا احساس ہوا۔
یونیورسٹی کے تنظیمی امور سنبھالنے والے کو فون کیا تو وہ بنگالی نکلا شہریت کے حساب سے بھی اور حرکات کے حساب سے بھی۔اس نے جواب دیا آپ کا جہاز تاخیر سے آیا ہے ہمارا کیا قصور۔اب آپ دکان سے سم لو پھر اس نمبر سے مجھے فون کرو پھر میں آپ کو اُس نمبر پر تحریری پیغام کی صورت میں پتہ بھیجوں گا آپ ٹیکسی کر کے چلے جاؤ اس ہاسٹل میں آپ کی رہائش کا بندوبست کر دیا گیا ہے۔
تب ہمیں پتہ نہ تھا کہ پولینڈ میں کسی پولے یا غیر پولے کو شام کے بعد فون کرنے کا مطلب مجلس خاص کے رنگ میں بھنگ ڈالنا ہوتا ہے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
April 25, 2013
joe shair lana- hissa doem
اس سے پہلے آپ حصہ اول میں پڑھ چکے ہیں:
اباجی کا پڑھائی پر اصرار اور ہماری دلچسپی فقط رسائل و جرائد تک
ٹیوشن والے استاد جی کے ڈنڈے کے راگ رنگ پروگرام اور ہماری بے بسی
بڑے بھائی کی نام نہاد دوستی اور ابا جی کو ہماری شکایتوں کی مستقل بنیادوں پر ترسیل
کرکٹ کا بخار اور گیند بازی میں پڑنے والی مار
کسی لڑکی کا نہ دیکھنا، ہنس کے دیکھنا مجھے
نتیجہ: ہمارا بننا شاعر اور رکھنا تخلص کزن۔
آگے پڑھیں....
اس تحریر کو شیئر کریں;
April 19, 2013
Joe shair lana-hissa awal
لیں جی پھر شام آگئی ہے، آج پھر ابا جی سے جھڑکیاں پڑی ہیں، ٹیوشن کا کام نہ کرنے پر استاد صاحب کے ہاتھوں دوزخ سے بچاؤ کے ٹیکے لگے، ایک اوور میں چار چھکے لگ گئے اور سب سے آخر میں گھر پہنچا تو بڑے بھائی صاحب میرے کھانے پر ہاتھ صاف کر چکے تھے ایسی صورت حال میں کوئی کیونکر جیے؟
ابا جی ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں پڑھو، پڑھو اور پڑھو،لیکن آخر یار کوئی حد بھی ہوتی ہے پڑھائی کی۔ کالج سے ہوآئے ، ٹیوشن سے ہوآئے، ہوم ورک ہو گیا، اگلے سال کے پرچوں تک کی تیاری کر لی اب اور کیا پڑھیں؟ اب بندہ ایف اے میں ہوتے ہوئے پی ایچ ڈی تو نہ کرلے۔ جب جھڑکیاں زبانی کی حد پار کرتی ہوئی دستانی تک پہنچی تو ہمیں تشویش ہوئی کہ یار یہ کام خطرناک ہے تو ہم نے دو دھاری نسخہ آزما ڈالا۔ کچھ عرصہ تو سکون رہا ابا جی سمجھے کہ چلو بچہ پڑھنے لگ گیا ہے مگر ایک دن ابا جی نے وہ سوال کر ڈالا جسکا جواب صرف مجھے آتا تھااور بجائے شاباشی کے روز روز کی جھڑکیاں مستقل ہمارا مقدر بن گئیں۔ سوال تھا یہ عمران سیریز اور جاسوسی ڈائجسٹ کون پڑھتا ہے اور میرا جواب تھا میں۔ اور اس جواب نے ہماری پڑھائی میں دلچسپی پر کافی روشنی ڈال دی۔ اللہ پوچھے گا بڑے بھائی سے۔۔۔۔۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
February 7, 2013
ACCA na keryo bhaiya
کچھ دن زندگی میں ایسے آتے ہیں جو بعد میں بندہ سوچتا کہ نہ ہی آئے ہوتے تو اچھا تھا۔ان کے بغیر زندگی نے اچھا خاصا گزر جانا تھا۔ایک ایسے ہی ایک دن جو نہ آیا ہوتا تو اچھا تھا میرے دوست میاں نعیم صاحب میرے پاس آئے ۔ہم ان دنوں اکٹھے ورچوئل یونیورسٹی Virtual University سے کمپیوٹر انجئیرنگ کر رہے تھے۔میاں صاحب آ کر بولے کہ یہ بی ایس BS کر کے ہمیں کوئی نوکری ووکری نہیں ملنی۔ سی پلس پلس ++C دور کی بات میٹرک والی جی ڈبلیو بیسک GW Basic تک تو آتی نہیں ہمیں ۔اور سیکھ بھی لیں تو یہ ورچوئل یونیورسٹی کو کون پوچھتا ہے۔تیسرا جب تک ہم ڈگری مکمل کریں گے مارکیٹ کمپیوٹر انجئینروں سے بھر چکی ہوگی۔پندرہ سو تو ہمارے ساتھ ڈگری مکمل کر لیں گے۔ہمیں کس نے گھاس ڈالنی ہےبات تو سچ تھی مگر بات تھی ناک کٹائی کی۔ سچ کہوں تو مجھے اس وقت میاں صاحب کے تینوں نکات سے اتفاق کے باوجود اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ نوکری ملے گی یا نہیں ۔میں نے میاں صاحب سے پوچھ لیا پھر کیا کیا جائے؟وہ بولے میں تو اے سی سی اے ACCAکر رہا ہوں ۔میں بات کر آیا ہوں کالج میں اگلے ہفتے سے کلاسیں شروع ہیں آگے جو آپکی مرضی۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
July 11, 2012
Souti (Audio) drama kaisay nahe bnana chahiye
پس تحریر: ڈرامہ کا لنک درج زیل ہے۔
https://www.dropbox.com/s/76ro1q23impcfv1/Final%20Campus.lite.mp3
صوتی ڈرامہ ڈائونلوڈ کریںڈراپ باکس
https://drive.google.com/open?id=0ByP38Bgi3zyqV0t4Y0lwSzcxVU0
صوتی ڈرامہ ڈاؤنلوڈ کریں گوگل ڈرائیو
https://www.dropbox.com/s/76ro1q23impcfv1/Final%20Campus.lite.mp3
صوتی ڈرامہ ڈائونلوڈ کریںڈراپ باکس
https://drive.google.com/open?id=0ByP38Bgi3zyqV0t4Y0lwSzcxVU0
صوتی ڈرامہ ڈاؤنلوڈ کریں گوگل ڈرائیو
آپ نے یہ تو کئی جگہ پڑھا ہو گا کہ فلاں کام کیسے کیا جائے ،ڈھمکاں کام کرنے کے طریقے لیکن آج ہمکو ذاتی زندگی سے ایک مثال کے زریعے بتائیں گے کہ صوتی یعنی آڈیو ڈرامہ کیسے نہیں بنانا چاہیے۔ امید ہے یہ واقعات پڑھ کر اگر آپ آئندہ کبھی آڈیو ڈرامہ بنانے لگیں گے تو ان چیزوں سے بچائو کا اہتمام پہلے ہی کر لیں گے.
اس تحریر کو شیئر کریں;
June 21, 2012
mohabbat or us ke natejay main lagny wali supplian
یونیورسٹی میں داخلہ ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھا گو یا ہماری زندگی میں۔ کیونکہ بی ۔اے کے پانچ سالہ محنت شاقہ کے دوران ہم روزانہ یونیورسٹی آتے اور اپنے دوستوں جو میرے اس پانچ سالہ سفر کے دوران ہر قدم پر ہمراہ رہے ماسوائے چند لمحات کے جب ہم میں سے کوئی منہ بولے بھائیوں کے نرغے میں پھنس گیا کیونکہ ہماری دوستی کا اصول رہا ہے
1۔جب لڑائی ہو جسکے جدھر سینگ سمائے ادھر دفع ہو جائے
2۔مار سے بچنے کے لیے آپ بھی دوسروں کے ساتھ ملکر اپنے دوست کو مار سکتے ہیں
3۔اگر آپ نے دوست کا ساتھ دیا ہے تو آپ کی اس بیوقوفی کو احسان نہی سمجھا جائے گا
4۔دوستوں کی ٹانگیں کھینچنا آپکا فرض ہے۔
چناچہ مندرجہ بالا شرائط پر تین کے علاوہ کوئی پورا نہی اتر سکا۔ہم روز یونیورسٹی آتے ۔سب سے پہلے تو اپنے مقدر کو کوستے کہ آخر پاکستان میں ہی کیوں پیدا ہوئے باہر کسی ملک میں پیدا ہوئے ہوتے تو اب تک نجانے کیا بن چکے ہوتے ،اسکے بعد یونیورسٹی والوں کو لعن طعن کرتے کہ چلو ہم تو بے شرم ہیں نہی پڑھتے انکو فیل کرتے بھی شرم نہی آتی آخر کوئی حد ہوتی ہے بے شرمی کی ایک بار دو بار تین بار ۔۔۔۔ہم من حیث القوم بے شرم ہوتے جا رہے ہیں۔اور آخر میں یہ وعدہ کرتے کہ جب بھی ہمیں موقع ملا یونیورسٹی میں داخلے کا تو اس قوم کی بیٹیوں کی خدمت کی حتی الوسیع کوشش کریں گے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
April 12, 2012
Tum se thay jitny istary thay
لیں جی کلاس نہ ہوئی مذاق ہو گی۔ہمارے پروفیسر صاحب جنکو ہم انکی عمر کی مناسبت سے بابا جی کہتے ہیں۔ ہمیں مجیمنٹ تھیوری پڑھاتے ہیں۔کہنے لگے کچھ سال قبل ایک گورے نے پخ ماری تھی کہ آرگنائزیشن کو استعارے کے طور پر دیکھو اور اس نے آٹھ راہنما استعارے مقرر کیے تھے۔
اب ہمارے شعری جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی کہ ہم تو صرف رنگ و خوشبو اور حسن و خوبی کے استعاروں سے واقف تھے تنظیمی استعارہ بازی میں الجھا لیے گئے۔اس کی پخ بازی کی نسبت سے ہمارے باباجی نے ہمارے ذمے لگایا کہ ہر بندہ اس میں اپنی اپنی ٹانگ گھسیڑے اور ان آٹھ کے علاوہ مزید استعارے پیش کیے جائیں۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
February 1, 2012
urfiyatain
اردو "ب" کی پرچے کی تیاری میں پڑھا تھا کہ کسی کا پیار سے یا نفرت سے نام رکھنا عرف کہلاتا ہے۔ مثلاً عثمان مانی بن
جاتا ہے زیشان شانی بن جاتا ہے۔پولینڈ میں ہر کترینچا کاشا ، ہر الیکسندرا اولا اور ایسے ہی لگے بندھے عرف ہیں۔ لیکن آج میں زرا ہٹ کے قسم کے عرف جو میرے کانوں سے گزرے کا ذکر کروں گا۔اور انکے رکھنے کی وجہ پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ لوڈ شیڈنگ کا دور دورہ ہے جتنی پڑ سکے غنیمت سمجھیے گا۔
سب سے پہلے تو میں خود ہی ہوں۔علی سے علی بابا۔ جی ہاں وہی چالیس
چور والا۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ علی بابا چالیس چور سے علی بابا ہوا اور اب صرف بابا رہ گیا ہے لیکن اب بھی کوئی کوئی علی بابا بلا لیتا ہے۔ پر مرجینا کا آج تک پتہ نہیں۔۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
February 1, 2011
Cycle Motor
تو قصہ کچھ یوں ہے بھائی صاحبان کہ جب میں دسویں جماعت میں پہنچا تو میرے والدین نے فیصلہ کیا کہ مجھے اسکول آنے جانے کی پریشانی سے بچانے کے لیے ایک موٹر سائیکل لے کر دیے دیاجائے۔لیکن اللہ جانتا اس فیصلے سے مجھے کوئی خاص خوشی نہ ہوئی۔بہرحال میں میرے ماموں اور انکا ڈرائیور موٹر سائیکل خریدنے کے مشن پر نکل پڑے اور ہنڈا سی ڈی سیونٹی کا پہلا ماڈل جو چوکور بتی کے ساتھ آیا تھا وہ ہم نے خریدا تو ہلکی سی خوشی ہوئی کیونکہ گول بتی والے موٹر سائیکل مجھے زہر لگتے تھے۔موٹر سائیکل خرید کر میں اور ڈرائیور تو کار پر واپس گھر آگئے اور ماموں موٹر سائیکل پر۔اس مشق کا اصل مقصد موٹر سائیکل کی کارکردگی جانچنا نہ تھا بلکہ اصل بات یہ تھی کہ تب تک مجھے موٹر سائیکل چلانا ہی نہ آتا تھا۔
جس دن میں نے موٹر سائیکل لیا اسی دن ڈبل سواری پر بھی پابندی لگا دی اور جو بات اب کراچی والے کہتے ہیں وہی اس زمنے میں شہباز شریف صاحب فخریہ کہا کرتے تھے کہ ڈبل سواری پر پابندی سے آدھی دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا ہے۔میں سوچتا تھا کہ یہ نامراد موٹر سائیکل پر مکمل پابندی لگا کر دہشت گردی کو جڑ سے ہی کیوں نہیں اکھاڑ دیتے۔نہ ان کو عوام کے سامنے شرمندگی ہو نا مجھے خاندان والوں کے سامنے کہ اس کو موٹر سائیکل ہی چلانی نہیں آتی۔
اس تحریر کو شیئر کریں;







.jpg)








