سنہ 2013 میں ایسٹونیا میں ایک سیل لگی جس میں 300 ایم ایم کیمرہ لینز فقط نوے یورو میں مل رہا تھا- ڈی ایس ایل آر
پہلے ہی تھا تو ہم خوشی خوشی یہ بز "بکری" خرید کر لے آئے- اب بندوق لیں تو چلانی بھی پڑتی ہے تو لینز لیکر فوٹوگرافی شروع ک تو پتہ چلا تین سو ایم ایم ذرا دو کی تصویر کشی مانگتا ہے- اسی کشمکش میں چڑیا گھر گئے جہاں اس کا اچھا استعمال شروع ہوا کہ ساٹھ یا سو ایم ایم کھلے پنجروں میں جانوروں پرندوں کو قریبی تصویر لینے میں ناکام تھا۔ بس پھر کیا تھا ایک دھن سوار ہوئی اور یورپ کے تمام چڑیا گھر ، مچھلی گھر، سفاری پارک چھان مارے۔ لیکن کسی سیانے نے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہوئے کہا کہ بھائی اگر کرنا ہی ہے تو اصل ماحول میں برڈنگ یا پرندوں کی تصویر کشی کریں –



