سنہ 2013 میں ایسٹونیا میں ایک سیل لگی جس میں 300 ایم ایم کیمرہ لینز فقط نوے یورو میں مل رہا تھا- ڈی ایس ایل آر
پہلے ہی تھا تو ہم خوشی خوشی یہ بز "بکری" خرید کر لے آئے- اب بندوق لیں تو چلانی بھی پڑتی ہے تو لینز لیکر فوٹوگرافی شروع ک تو پتہ چلا تین سو ایم ایم ذرا دو کی تصویر کشی مانگتا ہے- اسی کشمکش میں چڑیا گھر گئے جہاں اس کا اچھا استعمال شروع ہوا کہ ساٹھ یا سو ایم ایم کھلے پنجروں میں جانوروں پرندوں کو قریبی تصویر لینے میں ناکام تھا۔ بس پھر کیا تھا ایک دھن سوار ہوئی اور یورپ کے تمام چڑیا گھر ، مچھلی گھر، سفاری پارک چھان مارے۔ لیکن کسی سیانے نے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہوئے کہا کہ بھائی اگر کرنا ہی ہے تو اصل ماحول میں برڈنگ یا پرندوں کی تصویر کشی کریں –
شاید 2014 یا یا 2015 یا جب پہلی بار پاکستان چکر لگایا تو اصلی اور وڈی برڈنگ شروع کی- اب پاکستان میں کیوں کی اور ایسٹونیا میں کیوں نہ کی تو تب تک ہم وطن کی محوبت میں اتنے گھرے تھے کہ گوروں کے پرندوں پر بھی اپنے کاں لالی کو فوقیت دیتے تھے۔ گھر گاؤں میں تھا قدرتی ماحول کی فروانی تھی نئے نئے پرندوں سے آشنائی ہو رہی تھی ہم نے سوچا زندگی یونہی اب یار کی زلفوں تلے گزرے گی- لیکن نہیں دشمن زمانے کو ہماری خوشی ایک نہ بھائی اور ایک دن ایک دوست نے کہا آئیں کہیں باہر چل کر تصویریں کھینچتے ہیں۔ وہ ایک جھیل پر لے گئے جہاں میرا تین سو ایم ایم کا لینز ایسے بوکھلا گیا جیسے کوئی شٹل کاک برقعے والی بی بی کسی یورپی بیچ پر پہنچ گئی ہو- اب ایک نئی کشمکش شروع ہوئی لینز اچھا ہو تو کیمرہ اس سے اچھا ہو – اور تین سو ایم ایم ہے تو چار سو ایم ایم لینا چاہیے اور چار سو ہے تو پانچ سو لینا چاہیے۔ اب ہم نے بظاہر اس دوڑ سے دوری اختیار کرتے ہوئے خود کو کہا کہ ہم کو شوقیہ یا امیر و کبیر بورڈ قسم کے فوٹو گرافر نہیں ہیں بلکہ ہمارا مقصد انسانیت اور ملک کی خدمت ہے لہذا تصویر بھلے اچھی کوالٹی کی ہو یا ماڑی پرندے کا نیا اور یونیک ہونا زیادہ ضروری ہے- جبکہ ساتھ ساتھ اپنے فوٹوگرافی آلات کو جہاں موقع ملا اچھا بھی کرتا گیا – اس سے دو فائدے ہوئے ایک تو میں نے دوسروں کے بھاری بھرکم لینزوں سے متاثر ہونا چھوڑ دیا دوسرا تصویری کوالٹی سے بے نیاز ہوکر نئے پرندوں کی کھوج میں لگ گیا اور اس دلدل میں گلے تک پھنس کر رہ گیا۔
یہاں پر معاملہ یوں بھی پیچیدہ تھا کہ ہم سمجھتے تھے کہ ایک بار ڈی ایس ایل آر مل گیا مناسب لینز لگ گیا تو پالش کیے کرائے فریم لگے لگائے فوٹو نکلنا شروع ہو جائیں گے لیکن ہمیں کیا برا تھا مرنا گر ایک بار ہوتا نہیں جی کیمرے کے ساتھ فوٹو شاپ بھی سیکھو۔ فوٹو شاپ ہمارے زمانے کی اے آئی جیسی بدنام ذات خاتون سمجھ لیں۔ اب مجھے فوٹو شاپ سے کچھ دسشمنی نہیں تھی مسئلہ یہ تھا کہ ایک گرمیوں سے اگلی گرمیوں کے دوران میں پرندوں کی آوازیں اور مشکل پرندوں کی پہچان بھول جایا کرتا تھا۔ جو ایک بچوں والا سافٹ وئیر استعمال کرتا تھا ہفتہ دس دن بعد اسکی سیٹنگ بھول جاتا تھا کجا امیج سیلیکٹ کرنا اور کجا اس کا میک اپ کرنا ادھر اپنا یہ حال تھا فوٹو شاپ میں وہ رسے والا ٹول اپنے گلے کا پھندہ لگتا تھا۔
اب یہاں پر میں ایک اور معاملے میں الجھ گیا۔ جیسے مجھے وطن کی محوبت کا بھوت سوار تھا ایسے ہی ہم اردو کی محبت میں بھی گرفتار تھے۔ جب پہلی بار کمپیوٹر چلایا تھا تو پہلا خیال یہی آیا تھا اس پر کسی طرح اردو لکھی جائے – یار رہے یہ بات 1997 کی ہے۔ اب یہاں پر پرندوں کی تصویریں کھنیچیں تو خیال آیا اس کو اردو میں بھلا کیا کہتے ہوں گے۔ بس ایک نئی دوڑ میں لگ گئے۔ پرندوں کے اردو نام ، مقامی نام جمع کرنا شروع کیے- پتہ چلا ہمارے مایہ ناز سائنسدانوں نے پرندوں نے نام من و عن اردو میں ترجمہ کر رکھے ہیں جیسے سفید پر والی سیفد پشت چڑیا – اب ہم نے جستجو شروع کی تو پتہ چلا کہ برصغیر میں پرندوں جانوروں کے ناموں کا اپنا سسٹم رائج ہے جہاں پرندوں کو ایک نام سے بلایا جاتا ہے جیسے کامن مینا اور بینک مینا کو ہم صرف لالی اور شارق کہتے ہیں۔ بس ایسا جنون سوار ہوا کہ ایسا انسائیکلو پیڈیا بنا ڈالا جس میں ہزار سے زیادہ لوکل پرندوں نے نام جمع کرڈالے اور شاید ہی کوئی پرندہ بچا ہو جس کا مقامی نام نہ ڈھونڈ پایا ہوں۔
لیکن لیکن لیکن ایسا بھی نہیں یہ دس سالہ سفر - جس میں فقط دو یا تین سال ہی اچھا کیمرے اور لینز کا کامبینیشن بنا رہا وگرنہ کبھی میں نہیں تو کبھی تو نہیں یعنی کبھی لینز نہیں کیمرہ نہیں- بالکل صفر بٹا صفر رہا۔ جب اچھی تصویر بنانے کی ٹینشن ہی نہ رہی تو جستجو یہ ہوتی کہ نئے سے نیا پرندہ کھینچا جائے- ایک ایک دن میں اور دن فقط نماز فجر سے بمشکل بارہ بجے تک سردیوں میں چلتا اور گرمیوں نے تو آٹھ بجے ہی واپسی کا الارم بج جاتا سو سے بھی زائد پرنے کھینچے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر ایسے ایسے پرندے کھینچے جو جنوبی پنجاب میں کبھی ریکارڈ نہیں ہوئے اور کچھ ایسے جو پاکستان کے بھی اولین ریکارڈ بنے ۔ اس عرصے میں شمالی علاقہ جات گئے بغیر اور بالائی کشمیر گئے بغیر، بلوچستان اور مانسہرہ کے علاوہ تمام کے پی کے چھوڑ کر چند گھنٹے کراچی کے نکال کر تمام سندھ اور حتیٰ کہ اپنی کلر کہار والی اچھالی بھی نکال کر چار سو مختلف پرندوں کی تصاویر کھینچنے میں کامیاب ہو ا-
اہم ترین پرندوں کی لسٹ یہ رہی
اب پرندوں کی تعداد بڑھانے کا طریقہ ایک یہ بھی ہے کہ آپ اپنے زیر تصویر علاقے کو بڑھاتے جائیں۔ جیسے ہم ملتان سے شروع ہوئے، مظفر گڑھ پہنچے، وہاں سے تونسہ ادھر دوسری طرف سے دیارئے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتے پجند اُچ شریف وہاں سے بہاولپور، وہاں سے حاصل پور سے ہیڈ اسلام سے پیرووال/خانیوال سے ہوتے ہوئے واپس ملتان۔ دوسری طرف ہم نے محمود غزنی کی طرح سترہ تو نہیں بارہ پندرہ حملے اسلام آباد اور اس سے آگے جہاں تک جا سکنے کا ہمراہیوں میں دم تھا پر کیے اور جو مال غنیمت ملا سمیٹ لائے۔ کئی بار تین چار دن کی خواری کے بعد چار پانچ کچھ کام کے پرندے ملے کئی بار گھر سے نکلتے ہی سڑک کنارے کوئی ریکارڈ مل گیا ۔ لیکن ان پرندوں سے بڑھ کر اس سفر کچھ بہت اچھے اور کچھ بہت سے ذرا کم اچھے لوگ بھی ملے جنہوں نے اس سفر کو یادگار بنایا- حالانکہ غلام عباس مرزا اور ایم بلال سے پرانی سلام دعا اور اس سے بھی پرانا تعلق تھا لیکن پرندوں نے اس دوام بخشا، طاہر بھائی سے ملاقات ہونا بذات خود ایک ریکارڈ تھا ، عاطف ریاض بابا وہ واحد شخص ہیں جن کی تصاویر دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ کاش ایڈیٹنگ سیکھ ہی لیتے یا یوں سمجھیے کہ ایڈیٹنگ ہو تو ایسی وگرنہ ہماری بے ڈھبی تصاویر ہی اچھی ہیں- اکرم اعوان سے تعلق قائم ہوا جنہوں نے بارہا کوشش کی کہ ہم پرندوں سے بھٹک کر تتلیوں کی راہ میں بہک جاتے لیکن شکر ہے ملتان اور جنوبی پنجاب میں تتلیاں کم کم ہی نظر آتی ہیں وگرنہ ہم نے بہک بھی جانا تھا (نوٹ :اصلی تتلیوں کی بات ہورہی ہے)۔ ایک فوٹوگرافر اور برڈر جس کو پاکستان میں اتنی پزیرائی نہیں ملی لیکن میں نے ان سے بہت سیکھا وہ ارتضی بخاری تھا جس نے مجھے فیلڈ استعمال کرنا سکھایا بہت اچھا برڈنگ کا ہمسفر- لیکن ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے حالات ہوتے ہیں۔ پچھلے دو سالوں سے کیمرہ نہیں اٹھا فیلڈ میں نہیں گیا کہ کجھ تے انج وہ راہواں اکھیاں سن کجھ گل وچ غم دا طوق وی سی کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی تو بس سوچا باقاعدہ استعفیٰ کا اعلان کردیا جائے تو فیس بک کے چند ایک پڑھنے والو اور بھولے بھٹکے بلاگ پر آنے والو جب تک دوبارہ بھول بہکاوے سے ہم کیمرہ نہ اٹھا لیں جس کا دور دور تک امکان نہیں تب تک ہمارا استعفیٰ بہ حسرت ویاس قبول کیا جاوے۔
لیکن یہ استعفی یا دوری پرندوں کی تصویر کشی سے ہے پرندوں سے نہیں اور آج بھی سڑک پر جاتے نگاہ تاروں ، دوختوں نہر کے کناروں طرف رہے گی کہ اب بھی دلکش ہے ترا حسن۔۔۔ اور دوستوں مہربانوں سے تو یہ تجدید محبٹ ہے تنسیخ تعلق نہیں-





