آج مہشور زمانہ اردو بلاگ یعنی یہی بیچارہ بلاگ "اس طرف سے" پانچ سال کا ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے گویا تمام عمر سے بلاگ لکھتا آیا ہوں۔ لیکن اب آہستہ آہستہ بلاگ لکھنے سے دل بھرتا جارہا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ بلاگ میری دوہری شخصیت کا عکاس ہے کہ اپنی کہانیوں کی طرح اندر ہی اندر میں سڑا بسا ہوں لیکن باہر میں نے خوش اخلاقی اور مزاح پسند ہونے کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے جس کی ایک شکل میرا بلاگ بھی ہے اور چونکہ ہر بندے نے اپنی اصلیت کی طرف لوٹنا ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ یہ ہنسی مذاق لکھنا چھوٹتا جا رہا ہے جبکہ اسی سال میں جس دوران میں نے پچاس کے لگ بھگ بلاگ لکھے ہیں ستر کہانیاں جن میں سے کچھ چند سطری، کچھ کے مرکزی خیال، کچھ ادھوری، کچھ پوری لکھ چھوڑی ہیں۔ لیکن اتنے سفر کرتا ہوں اس لیے خطرہ رہتا ہے کہ کسی دن ملائیشیا جائے بغیر بھی ٹرجعون ہونے کی نوبت آ سکتی ہے کہ ملائیشیا والوں نے ٹھیکہ تھوڑی لیا ہے جہاز تو کہیں بھی گر سکتا ہے تو اس صورت میں میرا کمپیوٹر چلا کر اس میں ڈی ڈرائیو میں جا کر الا بلا کے فولڈر میں ڈاکیومنٹ پر کلک کر کے مائی ڈاکیومنٹ میں جا کر 22 کھول کر اردو پر کلک کر کے شارٹ اسٹوریز پر کلک کر نامکمل کے فولڈر میں جتنی کہانیاں ہوں ان سب کو آن لائن شائع کردیں تاکہ لوگ پڑھ کر مجھے حتی الوسیع برا بھلا کہہ سکیں اور کچھ بخشش کا سامان ہو۔
January 4, 2015
August 25, 2014
Londi se blondie tak aur blondie se londi tak
میرا ماموں زاد صبح صبح میرے پاس آیا اور بولا علی بھائی ہم نیا کتا لینے جا رہے ہیں۔ اچھا بھائی، کہاں سے ؟ لاہور سے۔
میرے دماغ میں سیاسی بات آئی لیکن میں نے پوچھا کیوں بھائی یہ ہے تو سہی۔ اس نے کہا کہ یہ تو دیسی ہے یا زیادہ سے زیادہ کوئی ملی جلی نسل ہے لیکن اب جو ہم لینے جا رہے ہیں وہ خاص الخاص نسل در نسل سے لیبرے ڈور Labrador نسل کا کتا ہے۔ میں نے کہا یار یہ تو کوئی شرافت نہ ہوئی ہم تو جب بھی کتا لائے ہیں آپ کا ساتھ لائے ہیں آپ اکیلے اکیلے۔ اس نے کہا اس بندے کے پاس ایک ہی ہے اور ویسے بھی ہمارے ماموں کے پاس ماضی میں اچھے کتے رہے ہیں لہذا میرا مقصد فقط چھوٹے ماموں زاد سے مذاق کرنا تھا۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
August 18, 2014
Misar aur hum
اصل میں بات کیا ہے کہ ایک تو ہمیں عربی خواتین کی جسامت سے ڈر لگتا ہے دوسرا عربوں کی پولیس کے ڈنڈے سے ڈر لگتا ہے لہذا ہم نے عربی خواتین کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔چاہے ممیاں ہوں یا بیٹیاں ہمیں دونوں سے ہی ڈر لگتا ہےاوپر سے ہم بھی ایسے لوگوں میں شامل ہیں کہ ایک دیہاتی اپنے گاؤں کسی عرب ملک سے ہوکر آیا تو کہنے لگا کہ بڑے نیک ہوتے ہیں عربی۔ میری ایک عربی سے لڑائی ہوگئی تو میں اس کو گالیاں نکالوں وہ مجھے قران مجید سنائے۔ اور اگر عرب ممالک میں جا کر اگر یہ بات دماغ سے نکل بھی گئی تو ہمیشہ اپنی نام نہاد عزت کا اتنا خیال رہا کہ کبھی کسی سے اپنی محبت کا اظہار اس ڈر سے نہ کر سکے کہ عورت ذات کے پیٹ میں کبھی کچھ ٹکا ہے ۔ بات پورے شہر میں پھیل جائے گی اور اپنی بے عزتی ہوجائے گی۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
August 4, 2014
Aik jahaz jo urny main takheer ka shikar ho gia
میں تالن Tallinn سےخوشی خوشی گھر واپسی کے لیے جہاز میں بیٹھا اور پہلی منزل فرینکفرٹ ٖFrankfurt ہوائی اڈا جو کہ میرے ناپسندیدہ ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے جانے کی تیاری کرنے لگا لیکن خوشی یہ تھی کہ وہاں سات گھنٹے سے زیادہ رکنا تھا اور میں کافی دنوں سے فریکنفرٹ کے چڑیا گھر جانے کی کوشش میں تھا کہ سنا تھا وہ تمام یورپ میں واحد چڑیا گھر ہے جہاں نیوزی لینڈ New Zealand کا قومی پرندہ کیوی Kiwi پایا جاتا ہے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
July 25, 2014
Agli manzil Lisbon
میری پروفیسر کا حکم ہوا کہ ایسا کرو کہ دوسرا سپر وائزر Supervisor ڈھونڈو جو کہ آپ کے ہی شعبےکا ہو تاکہ آپ کو پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے آسانی ہو۔ میں نے پروفیسر ڈھونڈنا شروع کیے اور ان کی تلاش میں دو چیزیں مد نظر رکھیں کہ ایک تو وہ برطانیہ England یا امریکہ America کے نہ ہوں دوسرا ایسٹونیا Estonia کے اور ایسٹونیا کے قریبی ممالک کے ساتھ کے نہ ہوں اور آخر میں نے ایک فہرست جس میں آسٹریلیا Australia، پرتگالPortugal، ترکی Turkey اور فرانس France کے پروفیسر شامل تھے اپنی سپر وائزر کو تھما دی۔ اس نے کانٹ چھانٹ کر ایک پرتگالی پروفیسر کو چنا اور میں نے دل میں سوچا پی ایچ ڈی اپنی جگہ پرتگال کا چکر پکا ہو گیا۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
March 10, 2014
mere cricket career per aik nazar or aath saal bad khail main wapsiii
میں کہا کرتا تھا کہ اگر میں کبھی قومی ٹیم یا کسی فرسٹ کلاس ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے ٹی وی پر آ بھی گیا تومیرے پروفائل بارے کچھ یوں سکرین پر ابھرے گا
علی حسان۔ دائیں ہاتھ سے کھیلنے والے سست رفتار بلے باز اور دائیں ہاتھ سے تیز سے ہلکی رفتار کے تیز گیند باز۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
February 24, 2014
Banna hamara photographer- pehly camery se aaj tak
![]() |
| تصویر جانے نہ پائے |
سنہ 97 میں میں پہلی بار مری گیا تھا اور پہلی بار ایک کیمرے کا بلا شرکت غیرے مری رہنے تک مالک بنا تھا۔ تب کیمروں میں ریل یا رول ڈلا کرتا تھا اور ایک ایک تصویر سوچ سمجھ کر کھینچنی ہوتی تھی کہ 32 یا 31 یا 30 تصاویر کل ہماری صوابدید میں ہوتی تھیں تاہم رول لینا اور تصویر کھینچنے سے بھی مشکل مرحلہ تصاویر کی دھلائی ہوا کرتا تھا اور ہماری کئی ریلیں دوالیہ ہونے والے فوٹو گرافروں کے ساتھ ہی کباڑ برد ہوئی ہوں گی۔
وہ نائیکون کا کیمرہ تھا جس میں فلیش کیمرے سے الگ ہو سکتا تھا اور پہلی بار فصیل مسجد دیکھنے کی خوشی میں میں فلیش اور کیمرے کا کور وہیں بھول آیا تھا اور واپسی پرخالہ جن سے کیمرہ لیا تھا خاصی عزت افزائی کرانی پڑی۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
February 17, 2014
Aik beron-e-Mulk muqeem Pakistani ki kahani
میرے سمیت بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی تین خوبیاں ہیں۔
ایک وہ بلا کے شیخی خورے اور ڈینگ باز ہوتے ہیں
دوسرا پیچھے پاکستان میں ان کا سلسلہ حسب و نسب و معاشی حالات اگر شریف و زرداری خاندان سےبڑھ کر نہیں تو کم بھی نہیں ہوتا
تیسرا ان کے حسن و وجاہت کے پیچھے کئی گوریاں دین و دنیا تیاگ کر ذہنی توازن گنوا کر جوگ بجوگ اپنا کر جنگلوں کی راہ لے چکی ہوتی ہیں۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
February 3, 2014
Fzai Safar, Hawai Addy, Fzai compnies
پچھلے دنوں ایک سروے ہوا جس میں دنیا کے بہترین اور بد ترین ہوائی اڈوں کے بارے ایک سروے کیا گیا تھا۔ ایسے ہی
پچھلے دنوں ایک سروے نظر سے گزرا جس میں مسافروں سے پوچھا گیا تھا کہ ان کے لیے سب سے تکلیف دہ چیز دروان پرواز کیا ہوتی ہے۔
ہم بھی دنیا بھر کی ہوائی کمپنیوں کے ساتھ سفر کر چکے ہیں مگر جیسے آج تک کسی نے ہمارے بلاگ کو منہ نہیں لگایا ایسے ہی کبھی کسی نے بطور مسافر ہمیں بھی منہ نہیں لگایا کہ میاں منہ میں دانت رکھتے ہو کہ نہیں؟نو سال ہوئے اڑتے کبھی کسی نے نہیں پوچھا میاں کوئی گلہ؟ کوئی شکوہ؟ کوئی صلاح؟ کوئی تجویز؟ لیکن ایک لحاظ سے ہوائی کمپنیوں والے بھی سچے ہیں کہ کبھی ہمارے گھر والوں نے ہم سے کسی معاملے میں مشورہ طلب نہیں کیا پرائے لوگ کیا دید کریں۔
لیکن ہم بھی مشورہ مفت ہےکا چلتا پھرتا نمونہ ہیں اور آتے جاتے کی بانہہ پکڑ کر اس کو بلا طلب کیے مشورہ پیش کرتے رہتے ہیں اس لیے ہم نے سوچا یہاں کیوں پیچھے رہیں اور نتیجۃ مشورہ حاضر ہے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
December 21, 2013
Conference kahani
کسی بھی کانفرنس میں جانے کا اور فائدہ ہو نہ ہو یہ فائدہ ضرور ہو جاتا ہے کہ سمجھ چاہے ایک لفظ نہ آئے ایک بلاگ
ضرور ہو جاتا ہے۔ بطور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہم سے امید رکھتی ہے کہ ہم یونیورسٹی میں منعقد کی جانے والی ہر کانفرنس میں ضرور شرکت کریں لیکن اللہ کی رحمت سے ہم بلاگ بس میں بیٹھ کر ، بستر پر لیٹ کر، چہل قدمی کرتے ہوئے الغرض کہیں بھی کبھی لکھ سکتے ہیں تو بندہ کانفرنس میں جانے کا تردد کیوں کرے جہاں لوگوں کی باتیں سننی پڑیں ان کے سوالات سمجھنے پڑیں اور سب سے مشکل کام دو تین گھنٹے ہوشیار باش ہو کر بیٹھے رہو۔ تاہم کبھی کبھی بندہ پھنس جاتا ہے اور جانے کے علاوہ کوئی راہ نہیں بچتی تو یہ کانفرنس بھی ایسی ہی کانفرنسوں میں سے نکلی اور ہمیں جاتے ہی بنی۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
November 1, 2013
shikar aaho tawasut insaan
خوش قسمتی فقیر پر ہمیشہ مہربان رہی ہے اور نادیدہ قوتوں نے ماسوائے بورڈ کے امتحانات کے ہر گام پر غیبی امداد بہم
پہنچائی ہے جن کی مہربانی سے زندگی کی تیس گرمیاں دیکھنے سے قبل ہی ایسے نادر تجربات و حواداث کا سامنا کرنا پڑا کہ اگر ان کو احاطہ تحریر میں لایا جاوے تو خلقت کے واسطے باعث برکت و عبرت قرار پاویں۔
کچھ سرگشتہ خمار رسوم و قیود قسم کے افراد یہاں پر دور کی کوڑی کے مصداق اعتراض اٹھائیں گے کہ درست محاورہ زندگی کی بہار ہے زندگی کی گرمی نہیں تو ایسے لکیر کے فقیروں کو سمجھانے کی ناکام کوشش کے واسطے عرض ہے "پتر کدی ملتان تے آؤ، بہار مہار سب بھول جاؤ گے" کہ شہر ملتان شریف واقع بیرون حدود لاہور و اندرون صوبہ پنجاب کہ وجہ شہرت ہی اس کے موسم کی سختی ہے کہ کسی صاحب حال کیا صاحب حال، ماضی و مستقبل نے تحریر کیا ہے اور اس صاحب بلاگ نے نقل کیا ہے کہ ایک شہر جو ہند سند میں واقع دریاؤں سے ایک دریا جس کا واحد مقصد محبت کی راہ میں روڑے اٹکانا رہا ہے المشہور چناب کے کنارے ہے اور ملتان کہلاتا ہے کا موسم ایسا ہے کہ بادشاہ وقت نے کسی کو جیل ڈالنا ہو اس کو ملتان کا قصد کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور وہ تمام عمر شمس کی ہمسائیگی میں گزار دیتا ہے کہ اس عجوبہ بے روزگار شہر میں دو موسم پائے جاتے ہیں اول موسم گرما دوم موسم شدید گرما۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
October 21, 2013
Bakry ki bak bak
صاحبان، قدر دان، قصائیان و مالکان میں ایک بکرا ہوں اور بِک رہا ہوں ۔ اگر آپ یہ فضول سوال پوچھیں کہ میں بکرا کیوں ہوں اس کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ چونکہ میں ایک بکری کے ہاں پیدا ہوا لہذا میں بکرا ہوں۔ کیونکہ انسان کے علاوہ اور کسی جاندار میں یہ طاقت نہیں کہ وہ جس کے ہاں پیدا ہوا ویسا نہ ہوا کہ بکرے کے گھر بکرے کا بچہ اور گدھے کے گھر گدھے کا بچہ ہی پیدا ہوتا ہے لیکن انسان کا کوئی پتہ نہیں کہ انسان کے گھر پیدا ہونے والا انسان کا بچہ ہی ثابت ہو گا یا کچھ اور۔ اور اس سوال کے جواب میں کہ میں بِک کیوں رہا ہوں تو اپنے گریبان میں جھانک لیں پاکستانی ہو کر ایسے سوال۔ بہرحال میری فروخت کا معاملہ میرے یا میرے رشتے داروں دوست یاروں کے پیسے کمانے سے تعلق نہیں یہ سرا سر عید قربان کی وجہ سے خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ یہ سیانوں کی باتیں ہیں اور بکرے کے مغز کا سوائے بھون کر کھانے کے اور کوئی استعمال نہیں لہذا ایسی باتیں کیوں کی جائیں۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
September 21, 2013
chashma e talism baher e talism
یوں تو زندگی میں کم ہی ایسی چیزیں گزری ہیں جن سے میں متاثر ہوا ہوں البتہ مجھے جتنا چشمے نے متاثر کیا ہے کبھی کسی چیز نے اتنا متاثر نہیں کیا ۔ جب میرے ہم عمر کمپیوٹر، ٹی وی اور ویڈیو گیموں Video games کی تمنا کرتے تھے میری ہر ممکن کوشش رہی تھی کہ کسی طرح چشمہ لگ جائے۔
اب خدا جانے میں چشمے سے کب اور کیسے متاثر ہوا کہ میرا مقصد بن کر رہ گیا کہ کسی طرح عینک لگ جائے کئی بہانے کیے کہ سر میں درد رہتا ہے، دھندلا نظر آتا ہے، آنکھوں میں جلن ہوتی ہے، چکر آتے ہیں، پڑھا نہیں جاتا لیکن ہر بار ڈاکٹروں نے بڑی سفاکی سے میرے ارمانوں کا خون کیا اور ہر مجھے نظر کے بالکل درست ہونے کا پروانہ تھما کر روانہ کیا۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
January 7, 2013
Gadhy or gory
گدھا اچھا بھلا عزت دار جانور تھا سامان ڈھوتا تھا، سواری کے کام آتا تھا، جنگوں تک میں حصہ لیا کرتا تھا کہ پنجابی زبان ایجاد ہو گئی اور گدھا "کھوتا" قرار پایا۔بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن سرائیکی نے تو حد ہی کردی۔کھوتے کو "گڈھیں" بنا دیا۔کبھی کسی سرائیکی بولنے والے سے گڈھیں سن کر دیکھیں، بندہ پانی پانی ہوجاتا ہے۔ گڈھیں سن کر گدھا بھی کہتا ہوگا اس ذلت سے تو اچھا تھا میں انسان ہو گیا ہوتا خواہ پاکستان میں ہی کیوں نہ پیدا ہوتا۔
جیسے ہم نےگوروں کے پروفیسر الو کو کالے جادو اور الو کا پٹھہ بلانے کے لیے مخصوص کر رکھا ہے ایسے ہی گدھا ہم نے دوسروں کی بے عزتی کرنے واسطے رکھ چھوڑا ہے۔ہاں کبھی کبھار کوئی گدھےکا مالک اس پر ڈنڈے برسانے کا کام بھی لے لیتا ہے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
December 23, 2012
?kuch ilaj ae charah giran is khushki ka bhe hai ke nahe
یوں تو اللہ میاں نے پہلے خشکی بنائی پھر انسان بنایالیکن میری تخلیق کے وقت لگتا ہے خاص اہتمام سے خشک مٹی منگوائی گئی اور مجسمہ بنانے کے بعد اسکو مزید دھوپ میں رکھا گیااور دھوپ بھی ملتان جیسے کسی علاقے کی تاکہ رہی سہی نمی کی ایک آدھ بوند بھی اچھی طرح نچڑ جائےاور پھر اس میں روح ڈالی گئی۔ہمارے پکے رنگ کو دیکھتے ہوئے یہ بات موزوں بھی لگتی ہے کہ اگر ہم کسی کو کہیں کہ ہمارا تعلق نائجیریا یا ویسٹ انڈیز ہے تو اسکو کوئی خاص تعجب نہ ہوگااور ان سب انتظامات کے بعد ہی کوئی جلد اتنی خشک ہو سکتی ہے جتنی ہماری ہے۔
ویسے تو سب سے خطرناک خشکی دماغی خشکی ہوتی ہے جسکا علاج لتریشن کے علاوہ کچھ نہیں اور ایسے لوگوں کا خاطر خواہ علاج نہ کرنے کی صورت میں خاصے برے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےہماری اکثر فلم ایکٹریس اور سیاستدان اس خشکی میں مبتلا لگتے ہیں۔اور نہ صرف مبتلا لگتے ہیں بلکہ لا علاج بھی لگتے ہیں۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
November 9, 2012
Murgho ki lrai ka ankho dekha haal
اگر آپ نے مرغوں کی لڑائی کبھی نہیں دیکھی تو کسی اچھی ریٹنگ والے میزبان کا سیاسی ٹاک شو دیکھ لیں انیس بیس کا ہی فرق ہوتا ہے۔البتہ ہم نہ صرف سیاسی ٹاک شو بھی دیکھ چکے ہیں بلکہ مرغوں کی لڑائی کے چشم دید بھی ہیں تو تماشبینی کا حال درج ذیل ہے۔
گاؤں میں رہنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپکو اکثر غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملتا رہتا ہے جو شہر میں رہتے ہوئے تقریباً ناممکن ہے۔مثلاً کتوں اور ریچھوں کی لڑائی، مرغوں کی لڑائی، تاش اور جوا، سیہ کا شکار ،سور کا شکار وغیرہ وغیرہ-ویسے تو ہم نصابی و غیرنصابی دونوں طرح کی سرگرمیوں سے پرھیز کرتے ہیں لیکن غیر نصابی میں انکار کرنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے لیکن جب ہمیں کتوں اور ریچھوں کی لڑائی کا دعوت نامہ ملا تو ہم نے صاف انکار کردیا۔دوستوں
کے نزدیک ہم بزدل
اس تحریر کو شیئر کریں;
October 21, 2012
kale hain to kiya hoa dilwale hain
گلی میں کرکٹ کا میچ زوروشور سے چل رہا تھا۔ میچ ایسے سنسنی خیز مرحلے پر تھا کہ اچھے بھلے شریف بچے سمجھے
جانے والے لڑکے بھی بلا تھکان گالیاں بک رہے تھے۔میں اس صورتحال سے دوہری لذت حاصل کر رہا تھا کہ اسکور گننے کے ساتھ ساتھ میں اور میرا دوست مراد آتی جاتی اور تانکتی جھانکتی لڑکیاں بھی گن رہے تھے کہ ہم اپنی اکڑ ختم کر کے کھیلنے کو تیار ہو بھی جاتے تب بھی کمینے محلے کے لڑکوں نے ہمیں نہیں کھلانا تھا۔ہم تو سات کھلاڑیوں کے ہوتے بھی بارہویں کھلاڑی ہی بنتے تھے لہذا ہم نے مشہور کر رکھا تھا کہ ہم فٹ بال کے اٹیکر ہیں اس لونڈوں لپاڈوں کے کھیل(کرکٹ) میں ہمیں دلچسپی ہی نہیں ۔اب محلے میں کسی نے کبھی فٹ بال کھیلی ہی نہیں تھی جو وہ میرے دعوے کی سچائی ثابت کر سکتے تو انہوں اپنا غصہ یوں نکالا کہ ہمیں "پیلے" کی نسبت سے "کالے" کا خطاب دے ڈالا تھااور ہم ذرا سے پکے رنگ کے ہونے کے باوجود کالے مشہور ہو گئے۔
اسی لمحے اس حسینہ عالم(اسکا اصلی نام) نے گھر سے باہر قدم نکالا اور جب میری اس پر نظر پڑی تو وہ مجھے دیکھ کر مسکراتی ہوئی چلی جارہی تھی۔ادھر ہماری پیدائش کے وقت دائی نے بھی یہ کہا تھالو جی ساتواں ہوا ہے۔گویا آج تک کوئی ایسا بندہ نہیں ملا تھا جو ہمیں دیکھ کر کسی اپنے خیال میں ہی مسکرایا ہو۔اور تو اور اماں نے آج تک ہمیں مسکرا کر پیار سے نہ
اس تحریر کو شیئر کریں;
October 11, 2012
Aik bibi ki Tallinn chirya ghar (zoo) main mashkook harkat or hamary mafrozy
اتفاق سے ہمارا اپنے ہم ذاتوں یعنی انسانوں سے تعلق کوئی قابل رشک نہیں رہا لہذا ہم ایسی جگہوں پر جانا پسند کرتے ہیں
جہاں انسانی آبادی کم ہو۔یوں تو اس مقصد کے لیے جنگل بہترین ہیں لیکن جنگل ذرا دور دراز علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور امی نے اکیلے ویران جگہوں پر جانے سے منع کیا ہوا ہے لہذا ہم درختوں سے ملاقات کے لیے پارک اور جانورں سے ملاقات کے لیے چڑیا گھر یعنی زوو zoo چلے جاتے ہیں۔
ایسی ہی ایک ملاقات کے لیے ہم ایستونیا میں قائم واحد چڑیا گھر تالِن میں چار ٹانگوں والے جانوروں سے ملاقات کے سلسلے میں جا پہنچے۔وہاں پر دیکھا ایک بی بی ایک سفری بیگ گھسیٹے جا رہی ہیں ۔
اب ایسے بیگ لیے لوگ ہوائی اڈوں ، بس اور ٹرین کے اڈوں پر تو نظر آتے ہیں لیکن چڑیا گھر میں؟؟ ہم بڑے حیران ہوئے کہ ماجرا کیا ہے اور ہم ان کے پیچھے پیچھے چل پڑےلیکن پندرہ بیس منٹ ضایع کرنے کے بعد بھی بات نہیں کھلی اور رات کو ہم نے گھر آ کر خاصا سوچا جس سے معاملہ تو نہیں بنا یہ بلاگ بن گیا جو آپ کی خدمت میں پیش ہے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
September 1, 2012
main ros (russia) , lenin prize aur blog award
جب ہم نے ہوش سنبھالا تو آج کاروس تب یو ایس ایس آرUSSR کے طورپوری آب و تاب سے آدھی دنیا کا حکمران تھا۔تب تک بڈھ بیر والے یوٹوU2 والا واقعہ روسیوں اور ہمارے ذہنوں سے محو ہو چکا تھاروس کی افغانستان میں مفت میں مداخلت، گرم پانیوں تک رسائی والے سچ جھوٹ، امریکی فنڈڈ جہاد افغانستان اور روس کی اسکی عرب ممالک کے ساتھ یاری عین موقع پر نہ نبھانےکےباوجود بھی امریکہ کو تڑی شڑی لگانے کے باعث ہماری دلی ہمدردیاں ہمیشہ روس کے ساتھ ہی رہی ہیں۔
فیض صاحب کو لینن پرائز دے کر تو روس نے ہمارا دل جیت لیاتھا۔چونکہ ہم بھی باقی پاکستانیوں کی ترقی پسند واقع ہوئے ہیں کہ کبھی بھی کسی بھی قیمت پر ترقی کرنے کو تیار رہتے ہیں اس لیے پہلے اپنے افسانوں پر اور اب اپنے بلاگ پر ہمیں امید رہتی ہے کہ شاید لینن نہ سہی گوربا چوف ایوارڈ ہی مل جائے کہ ایک تو روس کے بارے ہم اپنی ہمدردیاں پہلے پیراگراف میں تحریر کر چکے ہیں اور دوسرا اپنے ملک والوں نے تو اپنی قدر کرنی نہیں ہے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
July 2, 2012
میں اور شکار ایسے ہی ہے جیسے کسی ان پڑھ کو کمپیوٹر کوڈنگ پر بٹھا دیا جائے ۔ ہمیں تو کبھی چھروں والی بندوق نے قابو نہیں دیا کہ چھپکلی یا کووں کا شکار کر پاتے۔میں نے تو کبھی جم کاربٹ صاحب کی کہانی شوق سے نہیں پڑھی ہماری دلچسپی وہاں تک رہتی جہاں پر شیر چیتا یا کوئی اس جیسی مخلوق لوگوں کا جینا حرام کر دیتی جہاں پر انکی مچان بننی شروع ہوتی وہاں ہمارے صفحے پلٹنے شروع ہو جاتے۔
میری طبعیت زیادہ سے زیادہ بٹیرے کے شکار کی متحمل ہو سکتی ہے جہاں رات کو جال (جسکو مقامی زبان میں لاوا کہتے ہیں)لگایا ٹیپ جس سے اسپیکر جڑا ہے میں بٹیرے کی آواز والی کیسٹ لگائی اور خود گپیں مارنے لگے اور زیادہ بور ہو گئے تو نور جہاں کے نیم فحش گانے چلا کر سر درد کی گولی کھا کر سو گئے (نور جہاں اس لیے کیونکہ وہاں پر کوئی اور کیسٹ میسر نہیں ہوتی) اور اگلے دن بازار سے پچیس تیس بٹیرے خرید کر گھر چل دیے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;




.jpg)


.jpg)












