January 20, 2018

انگریزی لفظ برڈر کی اردو



اب اللہ جانے پیدائشی خلل تھا یا بعد میں کس حادثے کا نتیجہ ہے کہ اردو سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے- یہ محبت جب کمپیوٹر استعمال کرنا شروع کیا تو مزید ابھر کر سامنے آئی- جس روز پہلی بار نویں جماعت میں کمپیوٹر کو چھوا اسی لمحے پہلا خیال یہی آیا کہ اس پر اردو میں کام کیسے کیا جا سکتا ہے- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

December 21, 2015

قائد اعظم- اردو مضمون


پیش تحریر: کمزور دل اور تنگ دل حضرات یہ مضمون نہ پڑھیں

قائد اعظم 25 دسمبر 1887 کوکراچی میں پیدا ہوئے،آپ کا نام محمد علی رکھا گیا اور آپ کا خاندان جناح کہلاتا تھا۔ چونکہ اس وقت شعیہ سنی وغیرہ پیدا ہونے کی سہولت موجود نہ تھی لہذا وہ مسلمان کہلائے- اگرچہ ان کی وفات کے بعد خاصے لوگوں نے انکو یہ سہولت بہم پہنچانے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک ان کو زیادہ تر مسلمان ہی گنا جاتا ہے-
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

September 11, 2015

سرائیکی محاورہ، کہاوت اور ضرب المثل



اس لیے نہیں کہ سرائیکی یا ریاستی میری مادری زبان ہے (ریاستی بہاولپور میں بولے جانے والا لہجہ ہے جبکہ سرائیکی عام طور ہر ملتانی کو کہا جاتا تھا تاہم اب ہر علاقے کا لہجہ ایک دوسرے سے قریب آتا جارہا ہے) بلکہ کئی سامعین سے سنا ہے کہ سرائیکی سننے میں بڑی میٹھی لگتی ہے اب پتہ نہیں واقعی میں ہے یا ایسے ہی بات بنی ہے لیکن اس بارے تو اپنے مولانا جنید جمشید بھی فرما چکے ہیں کہ جامنی ہونٹ سرائیکی بولیں اور کانوں میں رس گھولیں۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

May 11, 2015

غیر اخلاقی باتیں، اخلاقی نتائج


اسکولوں میں اردو بے اور انگریزی بی کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر اخلاقی نتیجہ یعنی مورال آف سٹوری Moral of Story ایسا دماغ پر سوار ہوا کہ ہم کہانی بعد میں یاد کیا کرتے تھے اوراخلاقی نتیجہ پہلے۔ لہذا اب جو بھی بات ہو، جو بھی واقعہ ہو میں اس کا اخلاقی و غیر اخلاقی نتیجہ دیکھنے کا عادی ہو گیا ہوں اور ویسے بھی اس اردو بلاگ کا نام ہی "اس طرف سے" ہے کہ دنیا کو اس طرف سے دیکھیں جہاں سے آپ کو اس سے حاصل کردہ سبق دیکھنے کو مل سکیں تو آج کے بلاگ سے آپ سیکھ سکیں گے کہ کیسے آپ ہر ایک واقعے سے ہر ایک بات سے کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اس ساری بات کا اخلاقی نتیجہ نکلا، ہمت مرداں مدد خدا۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

September 8, 2014

کہانی: پھرتیوں کا انجام

kahani : phurtion ka anjaam


پیارے بچو روز روز کی کہانیاں پرچوں میں لکھ لکھ کر آپ بھی بور ہو چکے ہوں گے لہذا اگلے پرچوں کے لیے ایک نئی قسم کی کہانی یہاں تحریر کر رہے ہیں تاکہ غیر اخلاقی نتیجہ بھی خاطر خواہ نکل سکے اور پڑھنے والے اور لکھنے والے بور بھی نہ ہوں۔

واقعہ فقط اتنا سا ہے کہ ایک لڑکی گھر سے بھاگ گئی تھی۔لیکن کہانی خاصے مزے کی ہے۔ویسے بھی ہمارا قومی کردار ہے کہ پرائی مصیبت پر تماشہ دیکھنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے اور جب تک اپنے سر پر نہ پڑے تب تک تمام لوگ چٹخارے لے لے کر کہانیاں بیان کرتے ہیں اور بطور بلاگر یہ ہمارا فرض بھی ہوا گویا کہ ہماری مثال اسی بچے کی ہے جس کے بارے میں ایک شخص نے کہا اس کا باپ شاعر ہے ، اس کا دادا کمنٹیٹر تھا اور اسکی والدہ "خاتون" ہے۔ گویا ہم میں بھی نمک مرچ لگانے کے تمام لوازمات پورے ہیں تو کہانی یوں ہے کہ ایک گاؤں میں حسب معمول دو طبقے کے لوگ تھے۔ ایک امیر جو چوہدری ہیں اور دوسرے غریب جو نائی ، میراثی ، موچی ، بھنگی سب کچھ ہیں۔ اب اس گاؤں میں کچھ ایسے ذات کے چوہدری بھی تھے جو تھے تو چوہدری مگر تھے غریب اور غریب کی کوئی ذات اور عزت نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

May 1, 2013

گرائمر کے اسباق-اسم کی اقسام

 اسم – فعل- حرف
 پہلے اسم شریف ہوا کرتا تھا جب ہی پوچھا جاتا تھا "آپ کا اسم شریف"؟ لیکن اب پاکستان میں صرف نام کے شریف ہی جی سکتے ہیں کام کے شریف تو چلو بھر پانی کے بغیر ہی ڈوب مرتے ہیں لہذا اسم شریف ختم ہو گیا ہے اور اب نام اور نیم name سے کام چلایا جاتا ہے۔


فعل دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن میں"ع" آتا ہے(فعل) اور دوسرے وہ جن میں"ی" آتا ہے(فیل)۔اگر "ع" والے فعل کرتے رہیں تو "ی" والے فیل سے بچاؤ ممکن ہے اب یہ الگ بات کہ وہ "ع" والا فعل پیسے سے کیا جائے ، محنت سے جائے، خوشامد سے کیا جائے یا نقل سے کیا جائے۔بہرحال "ع" والے فعل کا مطلب ہے کرنا اور "ی" والے فیل کا مطلب ہے نہ کر سکنا۔"ع" والا فعل اکثر جگہوں پر باعث برکت بنتا ہے جبکہ" ی" والا سوائے عشق کے کہیں بھی کامیاب نہیں۔ طالب علم اکثر امتحانوں میں اس "ع" والے فعل کے چکر میں پھنس کر "ی" والے فیل کی گود میں جا بیٹھتے ہیں ۔"ی" والا فیل اساتذہ کا بھی پسندیدہ ہے کہ انکو کل نمبر لکھنے کی بجائے فقط ایف F ہی لکھنا ہوتا ہے۔فعلوں اور فیلوں کی ڈھیر ساری اقسام ہیں تاہم ان کو الگ بلاگ میں تفصیل سے لکھا جائے گا۔

 پڑھتے آئے ہیں کہ لکھا ہوا حرف پتھر پر لکیر ہوتا ہے لیکن ربر، ریموور اور کرینوں کی آمد کے بعد نہ پتھر رہے نہ پتھر پر لکیر۔ تاہم حرف ابھی بھی لکھے جا رہے ہیں کوئی سمجھے نہ سمجھے کوئی پڑھے نہ پڑھے ہماری بلا سے

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 1, 2013

درخواست حصول پارٹی ٹکٹ برائے جنرل الیکشن

darkhwast hasool e party ticket braye general election

بخدمت جناب چیرمین صاحب پاکستان سیاسی پارٹی، اسلام آباد،لندن، واشنگٹن 
جناب عالی 
گزارش ہے کہ فدوی ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے کھانے اور پینے کا مظاہرہ عوامی اور سیاسی طور پر کر چکا ہے۔بے شک فدوی اس سے قبل تین چار پارٹیوں میں رہ چکا ہو لیکن اس بات کی گواہی تو آپ کی پارٹی کے اراکین بھی دیں گے کہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ فدوی میں تمام خوبیاں آپ کی پارٹی کے اراکین جیسی ہی ہیں۔ یوں تو آپ جوابی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ تمام اراکین اسمبلی دراصل ایک ہی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن چونکہ فدوی حال ہی میں آپ کی پارٹی میں شامل ہوا ہے لہذا فدوی کی بات پر یقین کر لیا جائے کیونکہ ابھی بھی چند ایک پارٹیاں حلقے سے موزوں امیدوار کی تلاش میں ہیں اور ویسے بھی" نئے لوٹے کے نو مہینے اس کے بعد اگلے کمینے" تو آپ نے سن ہی رکھا ہو گا۔ 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

March 1, 2013

مادری زبانیں

madri zabanain

ہر سال 21 فروری کو عالمی یوم مادری زبان منایا جاتا ہے۔ یوں تو میری مادری زبان سرائیکی ہے لیکن میں قومی زبان اردو کو قومی مادری زبان اور سرائیکی کو علاقائی مادری زبان سمجھتا ہوں اور ان دونوں زبانوں سے اتنی محبت ہے کہ میں رہ نہ سکا اور اس سلسلے میں ایک مضمون پیش خد مت ہے جس کو طلبا امتحان میں لکھ کر خاطرخواہ نمبر بھی لے سکتے ہیں اور فارغ العقل معاف کیجیے گا فارغ التحصیل و فارغ الضلع پڑھ کر عش عش بھی کر سکتے ہیں۔

 میری مادری زبان سرائیکی ہے۔ الحمدللہ میں بڑی خوش اسلوبی سے اسے بول سکتا ہوں اس لیے مجھے اس کو سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ مجھے نہیں پتہ کہ سرائیکی کے کتنے حروف تہجی ہیں۔ سرائیکی پڑھنی پڑ جائے تو ایسے پڑھتا ہوں جیسے انگریزی میڈیم اسکولوں کالجوں والے اردو پڑھتے ہیں۔ یورپ والوں کا پاگل پن دیکھیں کہ ان کے ہر طالب علم کو ایک تو ہر مضمون اپنی مادری زبان میں پڑھایا جاتا ہے جب کہ اس کے علاوہ اسے یورپ کی ایک زبان اور سیکھنی ہوتی ہے تاکہ مختلف علاقوں والے دوسری جگہ جا کر اجنبیت محسوس نہ کریں۔ اس کے بر عکس ہم نے اپنے بچوں پر انتہائی کم بوجھ ڈالا ہے اور اسی رفتار سے چلتے رہے تو عنقریب اردو سے بھی جان چھوٹ جائے گی کہ انگریزی نہ صرف بین الاقوامی زبان ہے بلکہ ہر طرف اس کا دور دورہ ہے۔ انگلینڈ اور امریکہ کا بچہ بچہ انگریزی بولتا ہے۔ ہمارے صاحب لوگوں کے صاحب لوگ جو کہ امریکی ہیں یا برطانوی، انگریزی میں ہی بات کرتے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی ہمارے صاحب لوگ بھی دوران گفتگو انگریزی ہی استعمال میں لاتے ہیں لہٰذا انگریزی سیکھنا لازم ہے نہ کہ اردو، جب کہ سرائیکی، پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو وغیرہ تو دور کی بات رہی۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

February 1, 2013

میرا بہترین دوست-اردو مضمون

Mera behtreen dost.Urdu mazmoon

یوں تو آجکل دوست بھی چینی مارکہ آ رہے ہیں جو دیکھنے میں خوبصورت،رنگ برنگے، سینکڑوں خوبیوں کے حامل مگر استعمال میں انتہائی ناقص اور ناپائیدار ہوتے ہیں لیکن دوستی کی خوبصورتی یہ ہے کہ تاریخ میں بروٹس کے علاوہ اور کسی دوست نے دوستی کے نام پر دھبہ نہیں لگایا اور لگایا بھی ہے تو کم از کم جنکے ساتھ بے غیرتی کی گئی انہوں نے غیرت دکھائی اور دوستی کے نام پربٹہ نہیں لگنے دیا۔اب یہ بروٹس والا بھی بیچارہ سیزر تو چپ چاپ مر گیا شیکسپیر صاحب نے بروٹس کا ڈھنڈورہ پیٹ ڈالا۔

اچھا دوست وہی ہوتا ہے جسکو آپکے گھر والے ناپسند کرنے کے باوجود بھی آپکو اس سے دوستی کرنے سے نہ روک سکیں۔امریکہ اور پاکستان کی دوستی کی مثال سب کے سامنے ہے۔خوش قسمتی سے اللہ میاں نے مجھے ایسی خوشامدانہ طبعیت سے نوازا ہے کہ مجھے کبھی دوستوں کی کمی محسوس نہیں ہوئی تاہم آج کل ریاض کو آپ میرا بہترین دوست کہہ سکتے ہیں۔یوں تو اس سے دوستی کے لیے یہ وجہ ہی کافی ہے کہ اس کے ابا پولیس میں انسپکٹر ہیں لیکن ریاض کی شاہ خرچی، عادات ، حرکات اور چال چلن اس کو باقیوں سے ممتاز بناتا ہے اور اب تو اس کے والد نے اور اس نے اپنے نام کے ساتھ سید بھی لکھوانا شروع کر دیا ہے۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

January 1, 2013

اردو مضمون -مسئلہ کشمیر

Urdu Mazmoon (essay) masla kashmir

 مسئلہ کشمیر وہ کمبل بن چکا ہے جسے اب بندہ تو چھوڑنا چاہتا ہے مگر کمبل اسکو نہیں چھوڑتا۔

 جب پاکستان بنا تو پاکستان مخالف قوتوں کے پیٹ میں عمل تبخیر کا طوفان سا اٹھا اور انہوں نے سوچاکہیں یہ سچ مچ کی اسلامی ریاست نہ بن جائے تو انہوں نے پاکستان اور پاکستانیوں کے گلے میں مختلف قسم کے طوق ڈالنے شروع کر دیے کہ یہ سکون کا سانس نہ لے سکیں اور مسائل کا انبار کھڑا کردیا اور مسئلہ کشمیر ان میں سے ایک تھا۔ حالانکہ پاکستان کے مسائل پیدا کرنے کے لیے پاکستانی سیاستدان اور پاکستانی قوم ہی کافی تھی لیکن تب تک ہماری صلاحیتیں دنیا پر آشکار نہ ہوئی تھین۔قائد اعظم سیاستدانوں سے ہی نمٹ رہے تھے کہ ہم نے پہلی فرصت میں ان سے نجات حاصل کرلی اور پھر ہم نے مسئلوں کو گھسیٹنا شروع کر دیا کہ کہ مسائل فوری حل ہونے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ انکو سالوں گھسیٹا جاتا ہے تاکہ انکی اہمیت اجاگر ہو سکے۔
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

December 1, 2012

مراۃ العروس جدید-خلاصہ

Mirat-ul-Uroos jadeed -khulasa

اصغری اور اکبری جس زمانے میں پیدا ہوئیں اس زمانے میں تو لڑکوں کے نام بھی اصغر اور اکبر نہیں رکھے جاتے تھے 
لہذا انکے نام نکی Niki اور ایلدی Eldy رکھے گئے۔ ماں باپ چونکہ تازے تازے پیسے والے ہوئے تھے لہذا روشن خیال تھے کیونکہ یہ کہانی برصغیر کے زمانے کی نہیں بلکہ آج کل کے پاکستان کی ہے اور آج کل کے پاکستان میں امارت آتی ہے تو روشن خیالی خود بخود اس گھر میں گھس جاتی ہے۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی بچیوں کو لڑکوں کی طرح پالیں گے-

 ایلدی بی بی نے ہائی اسکول کے زمانے میں سے چن چڑھانے شروع کیے اور یونیورسٹی پہنچتے پہنچتے تک اتنے چن چڑھائے کہ سائینسدان تو جو چکرائے سو چکرائے آسمانی چن اور لاہوری حبیب الرحمان چن تک مستقل پردے میں رہنے لگے۔بڑی کے رنگ ڈھنگ دے کر روشن خیالوں کو خیال آیا اور انہوں نکی بی بی کو گھر داری کی طرف متوجہ کرنا چاہا وہی اولڈ تھنکنگ یو نو۔۔۔ مستقل ڈالڈا کے دسترخوان اور ذائقہ جیسے بد ذائقہ چینل دیکھ دیکھ کر نکی کے دماغ پر ایسا اٹیک ہوا کہ بی بی نے اوڑھنا بچھوڑنا باورچی خانہ کو بنا لیا۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 14, 2010

صبح کی سیر-اردو مضمون-نظر ثانی شدہ

Subuh ki sair-urdu mazmon-nazar sani shuda


جب ہم اسکول میں پڑھا کر تے تھے تو ٹریڈ مارک رٹا مضامین میں سے ایک صبح کی سیر بھی ہوا کرتا تھا جو امتحان میں آنا متوقع ہوتا تھا اور میرا بہترین دوست کے بعد دوسرے نمبر کے آسان کیٹیگری میں پڑنے کے باعث خاصا مقبول تھا۔کل اتفاق سے ایک کتاب نظر سے گزری جس میں صبح کی سیر کا مضمون بھی تھا تو لگا کہ یہ تو اس کا پرانا ورژن ہے آج کل کے حالات کے مطابق اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔میری بساط میں جو نظر ثانی کی جا سکتی تھی وہ پیشِ خدمت ہے باقی اپنے اپنے تخیل کا گھوڑا دوڑائیے ویسے کبھی کسی استاد نے آج تک ایک ہی گائیڈ سے مضمون رٹا مار کر من و عن لکھنے پر نمبر تو نہیں کاٹے۔

مضمون کچھ یوں شروع ہوا کرتا تھا کہ کسی عظیم مفکر کا کہنا ہے کہ اگر لمبی زندگی چاہتے ہو تو سبزے کو دیکھو، بہتے پانی کو دیکھو،دنیا گھومو وغیرہ وغیرہ۔لیکن  یہ ٹریڈ سینٹر کے حملوں سے قبل تک تو ٹھیک تھا پر اب تو بات کچھ یوں نظر آتی ہے کہ اگر لمبی زندگی چاہتے ہو تو گھر سے باہر نہ نکلو،ٹی۔وی دیکھو،بال بچوں کے ساتھ دن گزارو وغیرہ وغیرہ۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad