April 12, 2021

ملتان میں آموں کے ساتھ عام سلوک



چالیس پچاس سال قبل کسی نے ایک راہ دکھائی اور ملتان و گردنواح کے تمام زمیندار دھڑادھڑ آم کے باغ لگانے لگ گئے۔آم ان نسبتاً کم زرخیز زمینوں کو ایسے راس آئے کہ کسی کا ایک بیگھ بھی تھا تو وہاں بھی آم لگ گئے۔
 ہمارے ملک میں زمیندار ایک بڑی بیچاری قسم کی مخلوق ہے ۔کاشتکار یا جاگیردار تو پھر فائدہ میں رہ جاتے ہیں لیکن زمیندار نہ ہی کاشتکار بن سکتا ہے کہ معاشرے میں اپنی عزت اور خاندانیت کا بھرم خاک میں ملتا ہے اور اتنے زرائع اور دہشت نہیں کہ جاگیرداری والا طرہ قائم رہ سکے۔ بس اسی نام نہاد بھرم کی خاطر وہ الیکشن لڑتا ہے، عدالت جاتا ہے، سرکاری اہلکاروں سے تحفے تحائف دے دلا کر بنا کر رکھتا ہے،دس بندوں کو سالانہ گندم دیتا ہے تاکہ وہ اسکے ہاں نوکری کرتے رہیں۔زمین یا تو ٹھیکہ پر دے دیتا ہے یا خود کاشت بھی کرتا ہے تو ڈرائیور، منیجر، منشی راہق (مزدور) کے لاہ لشکر کے ہمراہ کرتا ہے جس میں ہر ایک اپنی اپنی جگہ داؤ لگانے کو تیار ہوتا ہے اور زمیندار جانے انجانے میں یہ سب برداشت کرتا رہتا ہے۔

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

February 8, 2021

آخری سلام




جب کا ہوش سنبھالا (میں اپنا ہوش سنبھالنا عمر کے حساب سے نہیں بلکہ سوچ کے اعتبار سے گنتا ہوں) نہ کبھی کسی مشہور
 ہستی سے ملنے کا شوق ہوا نہ کسی ہم پیشہ (مصنف، فوٹو گرافر، برڈر) سے ملاقات کی آرزو رہی- باقی پرستار بننا تو مدت ہوئی ہم نے چھوڑ دیا 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 23, 2020

ترکی: استنبول- انطالیہ- سیواس

سیواس



 ترکی گھومنے کا میں کئی بار من ہی من میں ارادہ کیا کہ ارادہ کرنے کے لیے آپ کو فقط ذہنی آزادی چاہیے- اس ارادے میں استنبول، انطالیہ، ازمیر، قونیہ، انقرہ، غازی عینتاب، سامسون اور کاپا دوکیا شامل تھے- نہ کبھی سیواس کا سنا نہ کبھی جانے کا ارادہ کیا- حالانکہ ڈاکٹر مجاہد نے ایک دو بار بتایا کہ ان کا تعلق سیواس سے ہے لیکن وہ اگلے جملے تک ہی یاد رہا- یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ استنبول کے بعد دوسرا شہر سیواس دیکھنے کو ملے گا-لیکن زندگی بے بھلا کب ہماری مرضی سے کوئی قدم اٹھایا ہے جو اب اٹھاتی- 

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 4, 2020

ترکی: استنبول- انطالیہ- سیواس

انطالیہ 



 ہمارے انطالیہ ہوائی اڈے پر اترنے سے پہلے وہاں اندھیرا اتر چکا تھا- اس لیے اندھیرے میں انطالیہ و گرد نواح کا کچھ بھی اندازہ نہ ہوا کہ کس قسم کا علاقہ ہے- سامان لیکر باہر نکلے تو ایک صاحب ورلڈ ایتھنو سپورٹ فورم کا گتہ پکڑے کھڑے تھے۔ ان کے پاس گئے – انہوں نے ساتھ کھڑے ایک اور شخص کی طرف ہمیں جانے کو کہا جو ڈائس ڈالے کاغذ لیے کھڑے تھے- اپنی فہرست میں انہوں نے ہمارا نام چیک کیا اور ساتھ کھڑے تیسرے شخص کو اشارہ کیا جو ہمارا سامان لیے ہمیں باہر کا اشارہ کرتے ہوئے آگے چل پڑا- کھیلوں کی وزارت کی طرف سے دعوت نامہ ملنے کے باوجود میں ایسے استقبال کی بہرحال امید نہیں کر رہا تھا- 

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

March 27, 2020

ترکی: استنبول- انطالیہ- سیواس


استنبول

جب میں استنبول ہوائی اڈے پر پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ میرے میزبان جنہوں نے ایک اور شہر سیواس سے آنا تھا پرواز منسوخی کی بنا پر نہیں پہنچ سکے۔ نہ ہی میرے پاس انٹر نیٹ تھا نا موبائیل رومنگ۔ نیا استنبول ہوائی اڈہ تمام تر خوبصورتی اور کشادگی کے باوجود (مقابلتاً سابقہ استبول ہوائی اڈہ) مفت انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت سے محروم تھا- (ویسے یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں بہت سے یورپی ہوائی اڈے میرے ہوتے اس سہولت سے محروم ہی تھے)۔ 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

October 24, 2019

ایران مشاہدات وتاثرات



 علامہ اقبال فرماتے ہیں

 اگرچه زادهٔ هندم فروغِ چشمِ من است
 ز خاکِ پاکِ بخارا و کابل و تبریز 

 یعنی کہ اگرچہ میں ہند میں پیدا ہوا ہوں، لیکن میری آنکھوں کی چمک بخارا، کابل اور تبریز کی پاک خاک کے سرمے سے ہے- تو چونکہ میرا سلسلہ نصب بھی بخارا، تبریز سے جا ملتا ہے اس لیےسفر ایران میں ایسا ہی محسوس ہوا جیسے گرمیوں کی چھٹیوں پر کسی رشتہ دار کے گھر جایا کرتے تھے- اپنے ہی بچھڑے بھائیوں دوستوں سے ملکر کیا محسوس ہوا اب بھی پڑھییے- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

October 5, 2019

اگر تبریز نہ باشد- اختتام



اگلا روز یعنی تیسرا روز سمر اسکول کا آخری روز تھا۔ ناشتا میں نے حسب معمول سو کر گزارا اور جب نیچے ہال میں پہنچا تو پتہ چلا کہ آخری روز کا پروگرام یہاں نہیں بلکہ تبریز کے ساتھ ایک انڈیسٹریل پارک یا فری زون / free zone/ Industrial park میں ہو گا کہ انہوں نے اس پروگرام کو سپانسر بھی کیا تھا- بسوں ویگنوں میں بیٹھ گئے (بسوں میں طلبہ اور ویگنوں میں مقررین)- وہ صنعتی پارک تبریز سے ڈیڑھ دو گھنٹے کی مسافت پر تھا- وہاں پہنچتے پہنچتے راستے میں کھانے کا وقت ہو گیا تو راستے میں کھانے کا انتظام بھی کیا ہوا تھا- کھانا کھایا اور پھر چل پڑے- 

مزید پڑھیے Résuméabuiyad

September 18, 2019

اگر تبریز نہ باشد - 2



اگلے روز اٹھے ، وقت دیکھا تو ناشتہ کھایا جا چکا تھا – تیار ہوا اور لیکچر دینے کانفرنس ہال میں پہنچ گیا جو اسی ہوٹل کی نچلی منزل پر تھا۔ جب وہاں پہنچا تو میری مترجم صاحبہ غائب تھیں میں نے شکر ادا کیا کہ اس معاملے میں مدعی ہی چست رہا ہے۔ مترجم صاحبہ کو یاد کرنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ میں لیکچر دینے کو بے قرار ہوا تھا بلکہ میرا لیپ ٹاپ ان کے پاس تھا اور مجھے اسکی فکر کھائے جارہی تھی- ان فروعی مسائل سے نکل کر پروگرام شروع ہوا- اب چونکہ میرا پہلا لیکچر تھا تو اس سے پہلے تلاوت، قومی ترانہ، تعارف وغیرہ ہوئے اور پھر مائیک میرے حوالے کر دیا گیا- میں نے شروع کیا کہ "سب سے پہلے تو آپ لوگوں کا شکریہ کہ آپ نے دعوت دی، خرچ اٹھایا اور سننے کو چلے (خرچ والی بات ظاہر ہے دل میں کہی)، دوسرے نمبر پر پیارے بچو اگر تو آپکو لگا اچھا اور آگئی سمجھ تو میری علمیت کی داد دیجیے گا اگر سمجھ نہ آئی تو پھر مترجم بی بی کو مورد الزام ٹھرائیے گا کہ اب آپ تک بات ہی صیح نہیں پہنچی تو میرا کیا قصور؟" 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

August 6, 2019

اگر تبریز نہ باشد- 1

پیش سفر، روز اول، سیر تہران




قسمت میں ایسے ہی لکھا تھا کہ میں نے بابا کے نہ چاہنے کے باوجود اپنے ماہانہ خرچ سے پیسے بچا کر پی ایچ ڈی کے ڈیفنس سے تین ماہ قبل لیتھوانیا Lithuania ایک تعلیمی کانفر س میں جانا تھا، کانفرنس کا خاص اسپورٹس سے متعلق ہونے کے باوجود اسکو فصول پانا تھا. وہاں ایک ترک ڈاکٹر (ڈاکٹر مجاہد فشنے) سے ملنا تھا اس کے بعد اگلے دو سال ایک دو مواقع پر اس ترک پروفیسر کے طلبا کی ریسرچ میں مدد کر نا تھا (حالانکہ میں اور دوسروں کی مدد..............) اور اس ترک ڈاکٹر کی وساطت سے ایک ایرانی ڈاکٹر سے ایک ریسرچ پراجیکٹ سے منسلک ہونا تھا اور اختتام کار تبریز میں ( ایک بار پھر بابا کے نہ چاہنے کے باوجود) دانشگاہ تبریز یعنی تبریز یونیورسٹی کے سمر اسکول Summer school میں شرکت کرنا تھی. اب قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے- 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad

April 19, 2019

اسد عمر کی تبدیلی اور پاکستانی معیشت



سوچ رہا ہوں کہ ایک راہمنا کتابچہ لکھوں جو ایسے غیر ملکی پاکستانیوں کی مدد کرے جو پاکستان مستقل سکونت کا سوچ رہے ہیں تو اسی میں ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ عاجزی (یعنی ہمبلنس) کو وہاں ہی چھوڑ کر آئیں کہ جب تک یہاں آپ ڈھونڈورا نہیں پیٹیں گے کہ میں ایسا میں ویسہ میں دھیلہ میں پیسا تب تک کسی نے آپ کو گھاس نہیں ڈالنی تو اسی نقطے کے تحت میں بتاتا چلوں کہ میں نے ماسٹرز میں اکنامس یا معاشیات پولینڈ سے پڑھی تھی جہاں پڑھانے والے اکثر سوشلسٹ یا بائیں بازو کے نظریات کے حامل تھے جبکہ ڈاکٹریٹ میں معاشیات اسٹونیا میں پڑھی تھی جہاں اساتذہ کٹر فری اکانومسٹ یا سرمایہ درانہ نظام کے حامی تھی اس لحاظ سے مجھے دونوں نقطہ نظر کو پڑھنے اور جاننے کا موقع ملا- - 
مزید پڑھیے Résuméabuiyad