April 4, 2020

ترکی: استنبول- انطالیہ- سیواس

انطالیہ 



 ہمارے انطالیہ ہوائی اڈے پر اترنے سے پہلے وہاں اندھیرا اتر چکا تھا- اس لیے اندھیرے میں انطالیہ و گرد نواح کا کچھ بھی اندازہ نہ ہوا کہ کس قسم کا علاقہ ہے- سامان لیکر باہر نکلے تو ایک صاحب ورلڈ ایتھنو سپورٹ فورم کا گتہ پکڑے کھڑے تھے۔ ان کے پاس گئے – انہوں نے ساتھ کھڑے ایک اور شخص کی طرف ہمیں جانے کو کہا جو ڈائس ڈالے کاغذ لیے کھڑے تھے- اپنی فہرست میں انہوں نے ہمارا نام چیک کیا اور ساتھ کھڑے تیسرے شخص کو اشارہ کیا جو ہمارا سامان لیے ہمیں باہر کا اشارہ کرتے ہوئے آگے چل پڑا- کھیلوں کی وزارت کی طرف سے دعوت نامہ ملنے کے باوجود میں ایسے استقبال کی بہرحال امید نہیں کر رہا تھا- 


پارکنگ میں ویگن ہمارا انتظار کر رہی تھی- ویگن میں پہلے ہی پانچ افراد بیٹھے تھے جو اندھرا ہونے کے باوجود چہرے بشرے سے، بیٹھنے کے انداز سے اور گفتگو سے کسی دوسرے سیارے کی مخلوق لگ رہے تھے- اس سیارے کی جہاں تک میرے جیسے عام بندے کی رسائی ممکن نہیں لیکن مکان و زمان کا فرق کسی ثقب کرم (زمانی نقب wormhole) میں مٹ جاتا ہے اور وہ لمحہ کسی ایسے ثقب کرم میں جا پڑا تھا- 

 کوئی آدھ ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ہم ہوٹل کلیستا جا پہنچے- ہمیں پہنچتے دیکھ کر بیروں کا ٹھٹ ہمارے پر ٹوٹ پڑا لیکن ہم نے یورپی انسانیت پروری کا بھیس اوڑے رکھا اور اپنا سامان خود ہی لے جانے کو ترجیع دی- اس کی وجہ بظاہر وہی تھی جو اوپر بیان کی لیکن اندرونی طور پر ہم بھی گوروں کی طرح تھے تاہم ہماری اندرونی وجہ ٹپ سے بچنا تھا کہ اتنے بڑے ہوٹل کا ویٹر ٹپ بھی منہ مانگی مانگ لیتا اور عام دنوں میں تو ہم ایسے ہوٹلوں، دکانوں کے سامنے سے بھی نہیں گزرتے کہ کیا پتہ ایک نظر ڈالنے کے پیسے مانگ لیں-

اپنا بیگ گھسیٹے جو اتنا شور مچا رہا تھا کہ دور دور سے لوگ اچک کر دیکھ رہے تھے کہ ہوٹل کہ اندر گڑگڑاتی سواریاں کب سے آنے لگ گئیں- لیکن ہمیں کون کچھ سکتا تھا کہ سرکاری مہمان تھے کوئی مذاق تھوڑی تھا؟ کاؤنٹر پر ڈاکٹر مجاہد بات چیت کرتے رہے اور ہم جو دن بھی کی مسافت سے اتنے تھک چکے تھے کہ اردو بولنا بھی تکلیف دہ لگ رہا تھا کجا انگریزی میں مغزماری کرتے کاؤنٹر پر لگے اوباما انکل (جی بارک اوباما) کی تصویراوران کے دستخط دیکھ کر انکی قسمت پر خوش ہوتے رہے کہ چلو وہ بھی ہماری نقل میں اس ہوٹل میں قیام کرچکے (صدر اوباما کسی ترکی کے دورہ میں اس ہوٹل میں قیام پذیر رہے)۔

 ہمارے کمرے کی چابی دی گئی اور ہم گڑگڑ کرتے بیگ کو کھینچتے چل پڑے- ہمیں سوئمنگ پول کے پار سمندرکے ساتھ والے بلاک میں کمرہ ملا تھا- ہوٹل کیا تھا کیا لکھیں- اب ہم غریبوں کو کوئی تاج محل کی تعریف کرے تو کیا کرے؟ سفید سا، بڑا سا، شاندار سا کیا کہے – تو بس ہوٹل بھی ایسا سمجھیں کہ جتنی اخلاقی حدود کی آسائشیں آپ کے دماغ میں آتی ہیں وہ سب وہاں میسر تھیں اور نہ صرف میسر تھیں بلکہ مفت میسر تھیں- 

کمرے میں ابھی لیٹا ہی تھا کہ دروازہ بجا – باہر ڈاکٹر مجاہد آئے تھے کہنے لگے کھانے کو چلیں؟ میں نے گھڑی دیکھی، رات کے گیارہ بج رہے تھے- میں نے سوچا اس وقت؟ معاملہ بھوک کا نہ تھا کہ مجھے جب بھی اپنی پسند کی شے کھانے کو ملے تو معدہ میں کچھ جا نکل آتی ہے جبکہ پسند کی شے نہ ملے تو سارا دن بھی کچھ کھائے بغیر گزر سکتا ہے- ڈاکٹر کہنے لگے پتہ تو کریں۔ چلیں جی- چل پڑے – آگے ڈائینگ ہال میں اکا دکا لوگ موجود تھے باہر کھانے کے اوقات کار کا بورڈ دیکھا تو کچھ اسطرح تھا کہ ناشتہ صبح چھ بجے سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد بہانوں بہانوں (یعنی ناشتا، اشراقانہ، چاشتانہ، ظہرانہ، عصرانہ، مغربانہ اور عشائیہ وغیرہ ) سے رات ایک بجے تک تنور گرم رہتا ہے اور ہر ایک کھانا بوفے ہوتا ہے- بار اس کے علاوہ تھی جہاں معقول و غیر معقول ہمہ اقسام کے مشروبات میسر تھے- اس کے کھلے بند ہونے کا وقت معلوم نہیں کہ ہم صبح آٹھ بجے سے رات دو بجے تک وہاں سے بہانوں بہانوں سے گزرے اور اسکو ہر وقت کھلا پایا- 

اگلے روز کانفرنس یا فورم کا پہلا دن تھا- صبح ڈاکٹر مجاہد کو کہا کہ آپ جائیں میں آتا ہوں- آپ ناشتا کریں میں بعد میں کر لوں گا- لیکن نو بجے جب کانفرنس کا آغاز ہونا تھا تو میں ڈاکٹر مجاہد کو بمعہ پانچ چھ دیگر پروفیسر حضرات ڈائنگ ہال میں ہی پایا- یہاں تعارف کے بعد ناشتا کیا اور پہنچ گئے کانفرنس ہال- مجھے جو تفصیلات بھیجی گئی تھیں اس میں پرانی کانفرنس کی تصاویر بھی تھیں- اس میں سب لوگوں نے دو ٹکرے والا جوڑا یعنی ٹو پیس سوٹ two piece suit پہن رکھا تھا تو اسی وجہ سے میں نے اپنے پی ایچ ڈی ڈیفنس کے بعد پہلی دفعہ وہ والا سوٹ نکالا جیسے اپنی شادی والا سوٹ اگلی کسی شادی میں نکال کر تراش بڑھاش کرا کر پہنا جاتا ہے ایسے ہی ہم نے اس کو تیار کرایا (تراش ہوئی یا بڑھاش اس کو رہنے ہی دیں) کہ ہم اکیڈمیشن کی شادی تو یہی پی ایچ ڈی کی ڈگری ملنے والا دن ہوتا ہے- اصل میں یورپ میں سیکھے کچھ برے کاموں میں ایک سوٹ کو اپنے پر حاوی نہ کرنا بھی ہے کہ وہاں جینز، جاگرز پر کوٹ پہن کر اسی کو قابل عزت/رسمی/فارمل بنانے کا فارمولا عام ہے- 

 کانفرنس میں ہر خاص و عام کی سمجھ کے لیے ترک، عربی، انگریزی، فرانسیسی، روسی زبانوں کے مترجم موجود تھے اور ہم میں سے ہر ایک کو ایک عدد آلہ تھما دیا گیا جس میں حسب ضرورت و حسب پسند زبان میں گفتگو کا متن سنا یا سمجھا جا سکتا تھا- تاہم کانفرنس میں ایک موڑ تب آیا جب باری باری مختلف ممالک کے کھیلوں کے وزرا کو بلانا شروع کیا گیا- اس فہرست میں پاکستان کا جھنڈا دیکھ کر میرے ساتھ بیٹھے ترک صاحبان پوچھنے لگے کہ کیا پاکستانی کھیلوں کے وزیر صاحب بھی آئے ہیں؟ میں نے دماغ پر زور دیا لیکن مجھے یاد نہ آیا کہ کسی وزیر نے مجھے بالواسطہ یا بلاواسطہ اطلاع دی ہو تو میں نے کندھے اچکا دیئے- بولا اس لیے نہیں کہ سوچنے لگا کہ بھلا کھیلوں کا وزیر ہے کون۔ ٰیہ معمہ تھوڑی ہی دیر میں حل ہوگا جب ڈاکٹر فیمہدہ مرزا صاحبہ کو اسٹیج پربلا یا گیا- دراصل یہ کوئی تعلیمی کانفرنس نہیں تھی بلکہ ایک فورم تھا جس پر کھیلوں کے وزرا، مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے سربراہ، کھیلوں کے صحافی، کھیلوں کے ماہرین، ماہرین ثقافت اور چند ہم جیسے ایسے تعلیمی نمائندے جن کا شعبہ تحقیق کھیل ہے کو مدعو کیا گیا تھا- 

شروع میں ہم بڑے عزم سے گئے کہ ہم تجاویز دیں گے جس سے دنیا میں انقلاب برپا ہو جائے گا لیکن جلد ہی ہمیں احساس ہوگیا کہ اس فورم کا مقصد بڑی میٹنگوں جیسا ہی ہے کہ نشستند و گفتند و برخاستند اور یہ فقط ایک میڈیا اسٹنٹ ہے تو ہم بھی ٹھنڈے ہو کر لوگوں سے اپنے تعلقات بنانے میں مصروف ہو گئے- ڈاکٹر مجاہد کی فرمائش آئی کہ چلیں ڈاکٹر مرزا کے ساتھ تصویر لیں- میں نے کہا چلیں- جیسے ہی ذرا رش چھٹا تو میں نے جا کر آدھی انگریزی آدھی اردو میں عرض کی کہ یہ میرے دوست ہیں ڈاکٹر مجاہد آپ کے ساتھ تصویر بنانا چاہتے ہیں-ڈاکٹر مرزا نے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا میں ترکی میں نہیں ہوتا بلکہ مجھے پاکستان سے مدعو کیا گیا ہے کہ میری ریسرچ فیلڈ کھیلوں کی برانڈنگ ہے اس لیے- میں پاکستان میں ہی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں- اس کے بعد غالباً وہ بھی میری طرح یہ سوچتی رہیں کہ یہ ابھی کہیں گے واہ ڈاکٹر صاحب آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی آپ نے یہاں آ کر پاکستان کا نام روشن کردیا وغیرہ لہذا نہ انہوں نے کچھ کہا نہ میں- انہوں نے اپنے سٹاف میں ایک لڑکے کو اشارہ کیا کہ نعمان تصویر کھینچ دیں- نعمان صاحب نے ایک ڈیجیٹل کیمرہ غالباً جب وزارت کھیل قائم ہوئی تھی تب کی وہ کیمرہ وزارت کو دیا گیا تھا سے تصویر کھینچی- میں نے ڈاکٹر مجاہد کو کہا لائیں آپ کے موبائیل سے آپکی تصویر کھینچ دوں- میں نے موبائیل کیمرہ سے ڈاکٹر مجاہد اور ڈاکٹر مرزا کی تصویر کھینچ کر انکا شکریہ ادا کیا اور چل دیے- اگر نعمان صاحب یہ بلاگ پڑھ رہے ہیں اور وہ تصویر ڈیلیٹ نہیں کرچکے تو براہ مہربانی وہ تصویر ای میل کردیں مجھے- انکو کچھ نہ کہا جائے گا- 


ڈاکٹر مرزا اور ڈاکٹر مجاہد










جب وزیروں نے گفتگو کرلی تو ہماری باری آئی- ہم نے بھی کچھ تجاویز دیں، کچھ سنیں- تصاویر لیں، لوگوں سے ملے- کافی بریک میں کافی و چا دونوں پیںٓ اور اس کے علاوہ دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا بھی کھایا- جب شام کو کمرے میں پہنچے تو میں نے ڈاکٹر مجاہد سے پوچھا شہر کا چَکر، چُکر نہ لگا آئیں؟ وہ کہنے لگے کہ بھائی شہر تو یہاں سے پچاس، ساٹھ کلو میٹر دور ہے؟ ہائیں ہم انطالیہ کا دیدار کیے بغیر لوٹ جائیں گے؟ ڈاکٹر مجاہد نے حوصلہ دیا کہ چھوڑیں ویسے بھی شہر میں دیکھنے کو کچھ نہیں ہے- بس یہاں سمجھیں سو ڈیڑھ سو کلو میٹر پر ہوٹل بنے ہیں سمندر کنارے یہی انطالیہ ہے بس- میں نے انکی بات پر فوراً حوصلہ کر لیا کہ درست کہہ رہے ہوں گے کہ انطالیہ میں واقعی کچھ دیکھنے قابل نہ ہوگا- ایسے مواقع پر فوری ایمان لانا دافع بلیات ہوتا ہے- پھر میں نے کہا سمندر یہاں سے کتنا دور ہے؟ وہ بولے بھائی جان وہ تو آپ کی کھڑکی سے بھی نظر آتا ہوگا۔ میں نے اٹھ کر پردہ ہٹایا لیکن نظر نہ آیا۔ اس لیے نہیں کہ تھا نہیں بلکہ اس لیے کہ شام ہو چکی تھی (ویسے سمندر کھڑکی سے دو سو میٹر دور تھا)۔ میں نے کہا انطالیہ آئے انطالیہ نہ دیکھا، سمندری ریزورٹ میں آئے سمندر نہ دیکھا یہ تو ہم کسی کو منہ دکھانے قابل نہ رہے- کم از کم سمندر تو دیکھ ہی آئیں کہ قسم کھانے کے قابل تو ہوں کہ ہاں انطالیہ میں سوائے سمندر کے کچھ نہیں دیکھنے کو میں خود دیکھ آیا ہوں- بس میری قسم کھانے کو میں اور ڈاکٹر مجاہد سمندر کر چل پڑے- 

سمندر سنسان پڑا تھا-ایک سیکورٹی گارڈ سردی میں بیٹھا اونگھ رہا تھا- پہلے اس نے ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھا لیکن جب اسے اطمنان ہو گیا کہ پاگل ہیں خود کشی کرنے نہیں آئے تو وہ دوبارہ اونگھنے میں مصروف ہوگیا- ہم نے Mediterranean sea میڈیٹیرین سی یعنی بحیرہ روم میں ہاتھ ڈبویا کہ رسم پوری ہو جائے، تصاویر کھینچوائیں اور واپس ہوٹل چل دئے- فون آیا کہ بار میں ہمارا انتظار ہو رہا ہے۔ 










ہم بار میں پہنچ گئے- ویٹر کو کہا بس یہ چا کافی ختم ہونے سے پہلے اگلا پیالہ موجود ہو- نہ ان کے پیسے لگ رہے تھے نہ ہمارے تو ایسا ہی ہوا اور اس دوران ہم نے جی بھر کر بے مقصد گفتگو کی – جب باتیں اور مشروبات سے تھک گئے اور نیند آنکھوں سے جسم پر طاری ہونے لگی تو ہم نے ایک بار پھر طعام گاہ کا رخ کیا- وہاں ناک بھر کر پھر کھانا کھایا کہ پیٹ تو پہلے بھرا تھا اب تو جو کھایا معدے سے اوپر والی جگہیں پر ہوئیں۔اور جب یقین ہونے لگا کہ یہاں بیٹھے بیٹھے ہی سو جائیں گے تو بمشکل خود کو کھینچ کھانچ کر بستر تک لے گئے اور وہاں ڈھیر ہوگئے- 


بار خانہ

ٹی وی کو بھی ہمارا نام پتہ تھا

بشکریہ بیری صاحبہ



اگلے روز دوبارہ وہی روٹین تھی تاہم اس دن ہم نے واپس بھی جانا تھا۔ آج ہم نے انطالیہ-استنبول اور استنبول- سیواس جانا تھا- کانفرنس والوں کا پروگرام آج شام گھومنے کا تھا- ہم نے سوچا بارہ بجے تک کانفرنس نمٹا لیں پھر نکل لیں گے- کرونا آہستہ آہستہ سر اٹھا رہا تھا- ایران سے پروازیں منسوخ نہیں ہوئی تھیں لیکن مریض نکلنے شروع ہو گئے تھے۔ دبے لفظوں کہا جارہا تھا کہ بہتر ہوتا یہ فورم منسوخ کر دیا جاتا اور ہمارا دل چاہتا کہ ایسا کہنے والے کو انٹ شنٹ سنا دیں لیکن وہ بھی دبے لفظوں کہتے ہم بھی دبے دل سے اپنا غبار نکال لیتے- لیکن پھر بھی ہر گفتگو کا رخ کرونا کی طرف مڑ جاتا- کچھ لوگ گرمی کی امید کر رہے تھے اور کچھ لوگ اطلاع دے رہے تھے کہ ایران سے کرونا ایک لمبی جست لگا کر اٹلی پہنچ چکا ہے- میں نے سوچا بین الاقوامی جگہوں پر بات بھی بین الاقوامی ہوتی ہے- 

بہرحال دو گھنٹۓ کانفرنس اور ایک گھنٹہ طعام گاہ میں گزارنے کے بعد ہم نے واپسی کی تیاری شروع کی- قریبی لوگوں کو الوداع کہا اور سامان کھینچ کر دوبارہ اس جیسی ویگن میں جا بیٹھے جس میں آئے تھے لیکن اس وہ بھری ہوئی نہ تھی بلکہ فقط میں ڈاکٹر مجاہد اور ڈاکٹر مجاہد کے ایک ہم جامعہ ڈاکٹر محمد تھے-راستے میں ارگنائزیشن کے سربراہ کا فون آیا کہ وہ مجھے اپنی آرگنائزیشن کا پاکستان میں اعزازی نمائندہ بنانا چاہتے ہیں- شاید وہ ہماری کانفرنس میں کارگردگی سے متاثر ہوگئے تھے-میں نے کہا بسم اللہ کہ ایسی کارکردگی تو میں نیند میں بھی دکھا سکتا ہوں-انہوں نے کہا جلد ہی کاغذ بھیجیں گےاور ہم نے بھی واپسی دستخط کرنے کا وعدہ کر لیا- 

ہوائی اڈے کے راستے میں اندازہ ہوا کہ انطالیہ اتنا بھی ماڑا نہیں جتنا سنا ہے کہ پہاڑیوں میں گھری وادیاں مصور کے شاہکار ظاہر کررہی تھیں۔ دل میں سوچا شاید زندگی رہی تو پھر کسی دن ادھر آئیں گے وگرنہ یادیں تو ہیں ہی ہیں- 



راستے میں دیکھے گئے انطالیہ کے پہاڑ







دوران چیک آؤٹ کاؤنٹر والے نے ہمیں افسردگی سے الوداع کہا کہ ہماری بکنگ کا ایک دن ابھی رہتا تھا اور وہ ہماری کم مائیگی کا ماتم کر رہا تھا کہ کیسے لوگ ہیں جو ایک دن کی بکنگ چھوڑ کر جا رہے ہیں- لیکن اس ویٹر کو کیا پتہ کلیستا ہوٹل سے باہر بھی ایک دنیا ہے اور وہ دنیا اپنی خونخواری، ناقدری اور جہالت کے باوجود اس دنیا سے زیادہ خوبصورت ہے اور پھر مسافر کا تو کام ہی چلتے رہنا ہے کہ میں اپنے طلبہ کو پڑھاتا ہوں کہ جب آپ یہ سمجھیں کہ آپ عروج کی حد تک پہنچ گئے ہیں اس کے بعد پھر زوال ہے- تو اپنے آپ کو سہلانے کو میں خود سے کہتا ہوں کہ یہ تو فقط ایک گھڑی ہے جینے کو تو ایک عمر پڑی ہے کہ ابھی تو سیواس بھی جانا ہے-

Turkey: Istanbul- Antalya- Sivas