ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جگہ تین بزعم خود اردو بلاگنگ کے ٹھیکیدار اکٹھے ہوئے- ان میں سے ایک ڈاکٹر ایک دانشور اور ایک ادیب تھا۔ عام طور پر جب اتنے بڑے لوگ اکٹھے ہوں تو لوگوں کو توقع ہوتی ہے کہ کوئی ادب کی بات ہو گی، کوئی دانشوری جھاڑی جائے گی، کچھ تخلیقی موضوع زیر بحث ہو گا کچھ شاہ پارہ تخلیق ہوگا تو ایسے لوگوں کی تسلی کے لیے اس ملاقات کے کچھ مکالمے ٹکڑوں کی صورت میں جس کو دیسی زبان میں "ٹوٹے یا ٹریلر" کہا جاتا ہے پیش کیے جا رہے ہیں۔ جہاں جہاں گفتگو کرنے والا کا نام نہیں لکھا وہاں اپنی صلاحیت بروئے کار لائیں اور تینوں میں سے جو مناسب لگے اس کو ٹانگ کر کام چلائیں۔ آخر میں یاد کراتا چلوں کے یہ تمام واقعات فرضی نہیں ہیں۔
December 1, 2015
October 21, 2015
جب پہلا بلاگ لکھا تھا تو یہ ارادہ تو تھا کہ اب یہ لکھنا لکھانا جاری رہے گا لیکن یہ پتہ نہ تھا کہ چھ سال تک لکھتا چلا جاؤں گا، دو سو پوسٹ لکھ ڈالوں گا کہ چھ سال قبل ہم نے سوچا نہ تھا کہ مزید چھ سال زندہ بھی رہ پائیں گے۔ تو اب چونکہ یہاں تک پہنچے ہیں تو سوچا کیوں نہ اس ڈبل سینچری کی خوشی میں آپ کو اپنے بارے آگاہ کیا جائے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
March 17, 2014
Malaysia ki Malaysian Airlines k gumshuda tiyare MH370 ki talash main
اللہ جانتا ہے کہ ملائیشا Malaysia کے کھوئے ہوئے MH370 ایم ایچ تین سو ستر طیارے کے مسافروں سے شدید ہمدردی ہے جو کوالالمپور Kualalumpur سے بیجنگ Beijing جا رہا تھا کیونکہ یہاں غیر ملک میں رہتے ہوئے کبھی کبھار پاکستان سے فون بھی آجائے تو دل کانپ اٹھتا ہے کہ اللہ کرے خیر ہو لیکن میڈیا نے اس کو بھی مذاق بنا ڈالا ہے اور قیاس آرائیاں طیارے کو کہاں سے کہاں کھینچ لائی ہیں اور ہر مذاق میں سوائے سیاست کے مذاق کے حصہ ڈالنا ہم اپنا قومی اور بلاگی فریضہ سمجھتے ہیں اس لیے پیش ہے ملائیشا ائیر لائنز کے طیارے پر ہمارا جائزہ و تحقیقی رپورٹ۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
May 19, 2013
Pakistan se bahir (Europe main) kisi pakistani se pehli mulaqat
ملتان سے وارسا کا 30 گھنٹے کا سفر ختم کر کے جب ہم وارسا کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو پتہ لگا کہ ہمیں یونیورسٹی کی طرف سے جس نے لینے آنا تھا وہ فلائیٹ کی تاخیر کی وجہ سے واپس جا چکا ہے اور ہم جو پہلی بار گھر سے باہر نکلے تھے گوروں کےدیس میں بے یارو مددگار کھڑے تھے۔گھر بتانا چاہا کہ ہم خیر خیریت سے پولینڈ پہنچ چکے ہیں تو پانچ یورو کا کارڈ ہیلو ہائے میں ہی اگلے جہاں پہنچ گیا جس سے ہمیں یورپ اور آسمان کی قربت کا احساس ہوا۔
یونیورسٹی کے تنظیمی امور سنبھالنے والے کو فون کیا تو وہ بنگالی نکلا شہریت کے حساب سے بھی اور حرکات کے حساب سے بھی۔اس نے جواب دیا آپ کا جہاز تاخیر سے آیا ہے ہمارا کیا قصور۔اب آپ دکان سے سم لو پھر اس نمبر سے مجھے فون کرو پھر میں آپ کو اُس نمبر پر تحریری پیغام کی صورت میں پتہ بھیجوں گا آپ ٹیکسی کر کے چلے جاؤ اس ہاسٹل میں آپ کی رہائش کا بندوبست کر دیا گیا ہے۔
تب ہمیں پتہ نہ تھا کہ پولینڈ میں کسی پولے یا غیر پولے کو شام کے بعد فون کرنے کا مطلب مجلس خاص کے رنگ میں بھنگ ڈالنا ہوتا ہے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
August 21, 2012
Serdai (thandai) or jhandon ka bahami taluq
ایسے ہی کسی معزازنہ سی محفل میں کسی نے پوچھ لیا کہ یہ جو سڑک کنارے سردائی والے بیٹھے ہوتے ہیں انکی دکانوں کے گرد اتنے جھنڈے کیوں لگے ہوتے ہیں؟
اب مخاطب میں تھا اور سننے والا میرے بلاگ سا دلچسپ جواب سننے کا متمنی تھا لیکن شاید وہ جانتے نہیں کہ عام طور پر جگت مارنا میرے بس کا کام نہیں یہ بلاگ بازی تو رات کو نیند نہ آنے کا نتیجہ ہے جبکہ عام گفتگو میں لاکھ کوشش کے باوجود بے ساختہ سچائی دبانہیں پایا۔اور تھوڑی دیر سوچنے کے بعد میں نے جواب دیا کہ چونکہ سردائی کا اصل ماخذ یعنی اوریجن Origin مزارات ہیں جہاں پر بھنگ والی سرادئی گھوٹی جاتی ہے لہذا اس بغیر بھنگ والی سردائی کے لیے اسی نسبت سے جھنڈے کھڑے کیے جاتے ہیں۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
June 11, 2012
jana hamara jetha bhutta or kerna sair Barcelona ki
جیسا کہ میں پہلے تحریر کر چکا ہوں جہاں چند افراد جمع ہوں اس جگہ جانا اس نا چیز کی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے لہذا شادی ہو، یا غمی ،پالٹی ہو یا قل حتی الامکان جانے سے گریز کرتا ہوںلیکن اب کہ جو فوتیدگی ہوئی تو کچھ والدہ صاحبہ کے انتہائی سختی سے جاری کیے گئے احکامات کے پیش نظر اور کچھ ایک ایسی جگہ جانے کی غرض سے جہاں اب تک میں نہیں گیا تھا ہم بھی افسوس کرنے کی خاطر جیٹھہ بھٹہ نامی جگہ پہنچ گئے اور جا کر دریوں میں اترا سا منہ لیکر فاتحہ پڑھی اور پھر ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ لوگ ہمارامنہ دیکھ کر ہمیں قریبی عزیز سمجھ رہے تھے جبکہ اصل میں وہ غم کے نہیں بلکہ گرمی اور بھوک کے ہاتھوں بے حالی کے اثرات تھے۔
لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے جب ایک صاحب آئے اور سلام دعا کے بعد گفتگو شروع ہوتی ہے۔
اس تحریر کو شیئر کریں;
January 15, 2012
Aur mujhy bhe tanga gia
اچھا بھلا سکون سے وقت گرز رہا تھا کہ ہمارے اردو بلاگران نے ٹیگیاں مارنا شروع کر دیں ۔ لو جی ٹیگ ، ٹیگ کھیلو۔ اور بکرے کی اماں کب تک خیر مناتی ہم جیسے تیسرے درجے کے بلاگر بھی اس کی لپیٹ میں آگئے جس کا نتیجہ آپ ان سوالوں کے جوابات کی صورت میں بھگتیں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ جواب تو ہم کبھی پرچے کا صیح طور نہیں دے پائے تو یہاں بھی جو الٹا پلٹا سمجھ آیا پیش خدمت ہے۔
اگر مجھے جاپانی آتی تو ایک آدھ پیار سےشکوہ ضرور جاپانی صاحب کو عناعیت کرتا کہ بھائی صاحب ہم کو پہلے دن سے آپ پر ہی شک تھا کہ کوئی اور کرے نہ کرے آپ نے ضرور مجھ کو ٹانگنا (ٹیگنا)ہے۔ ہم نے پہلی بار مروت میں جواب دے دیا ہے کہ اب یاسر بھائی کو کیا نہیں کریں۔ اس لیے معمول کی نشریات روک کر پہلے ٹیگیاں آپ کے سامنے حاضر ہیں۔
اس تحریر کو شیئر کریں;








